1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پی سی بی کے نئے سربراہ کو درپیش چیلنجز

ذکا اشرف ایک ایسے وقت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور سنبھال رہے ہیں، جب سابقہ عالمی چیمپئنز کی عالمی رینکنگ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹونٹی ٹونٹی میں تنزلی کا شکار ہو کر بالترتیب چھ اور سات ہو چکی ہے۔

default

پاکستان نے انیس سو باون میں کوٹلہ ٹیسٹ کھیلتے ہوئے بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کا شمار دنیائے کرکٹ کے صف اوّل کے ممالک میں ہونے لگا۔ اسی لیے ذکا اشرف بھی پاکستان کرکٹ کو اس کا ماضی لوٹانے کو ہی اپنا پہلا ہدف قرار دیتے ہیں۔

پی سی بی ہیڈکوارٹر قذافی اسٹیڈیم میں گفتگو کرتے ہوئے ذکا اشرف کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ کو بحرانوں کا سامنا ہے مگر وہ ملک کا اس کھیل میں کھویا ہوا مقام واپس لانے کی پوری کوشش کریں گے۔

Zaka Ashraf

ذکا اشرف انتخاب عالم سے ملتے ہوئے

صوبہ پنجاب کے تاریخی شہر بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ذکا اشرف شوگر ملز کے مالک ہیں اور حال ہی میں ملک کے ایک بڑے بینک کی سربراہی سے سبکدوش ہونے کے بعد پی سی بی پہنچے ہیں۔ ایوان صدرکی جانب سےانسٹھ سالہ ذکا اشرف کی بطورچئیرمین پی سی بی نامزدگی پر سب سے بڑا اعتراض ان کی کرکٹ کے انتظامی امور سےعدم واقفیت پر کیا جا رہا ہے۔ اس بابت جب خود ذکا اشرف سے استفسار کیا گیا تو ان کا کہنا تھا، ’’جب میں زرعی ترقیاتی بینک میں گیا تو وہاں بھی کہا گیا میں نان بینکر ہوں مگر میں نے کچھ عرصے میں اس بینک کی کایا پلٹ دی اور جو ادارہ اربوں کے خسارے میں تھا اسے منافع بخش بنا دیا۔ اب صدر پاکستان آصف علی زرداری نے مجھے کہا کہ جس طرح میں نے آپ کو زرعی بینک کا چیلنج دیا تھا پی سی بی میں بھی ویسا ہی چیلنج قبول کریں۔‘‘

ذکا اشرف کے پیشرو اعجاز بٹ کے دورمیں سری لنکن کرکٹ ٹیم پرلاہورمیں ہونیوالے دہشت گردی کے حملے اور لارڈز ٹیسٹ کرپشن کیس نے پاکستان کرکٹ کوعالمی تنہائی کا ایسا شکار کیا کہ تاحال کوئی غیر ملکی ٹیم پاکستان آنے پرقائل نہیں ہو سکی۔ تاہم اب نئے چیرمین پی سی بی آئی سی سی کے بھارت سمیت تمام رکن ممالک سے تعلقات بحال کرنے جیسے چلینجز کو قبول کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔

چئیرمین پی سی بی کا کہنا تھا، ’’غیر ملکی ٹیموں کے لیے فول پروف سکیورٹی کا پلان ترتیب دیا جا رہا ہے اور جلد ہی اس ضمن میں پیش رفت ہوگی۔‘‘

Zaka Ashraf

ذکا اشرف اور جاوید میانداد خوشگوار موڈ میں

دوسری جانب پی سی بی میں گارڈ کی تبدیلی سے ناصرف محمد یوسف اور شاہد آفریدی جیسے بورڈ سے ناراض اور سرکش کرکٹرز بھی واپسی کے لیےمتحرک ہو گئے ہیں بلکہ خود ذکا اشرف نے آو تاؤ دیکھے بغیر آفریدی کو ٹیم میں شمولیت کا حق دار بھی قرار دے دیا۔ جب ذکا اشرف سے پوچھا گیا کہ اعجاز بٹ نے تو کئی پاپڑ بیلنے کے بعد پلیر پاور پر قابو پایا تھا اوراب پی سی بی کے خلاف کھلی بغاوت کرنیوالےآفریدی کی ٹیم میں واپسی سے پلیر پاور کا جن دوبارہ بوتل سے باہر نہ آجائے تو چئیرمین پی سی بی کا کہنا تھا، ’’میری رائے میں وہ ون ڈے کا اچھا کھلاڑی ہے۔ تاہم ہو سکتا ہے کہ ماہرین سے ملنے کے بعد میری آفریدی کے بارے میں رائے بدل جائے۔ فی الحال آفریدی نے مجھ سے ملاقات کا وقت مانگا ہے۔ میں نے اس کا خیرمقدم کیا ہے تاہم سب سے ملنے کے بعد ہی آل راؤنڈر کی ٹیم میں شمولیت کا فیصلہ ہوگا۔

ذکا اشرف حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ہیں تاہم انہوں نے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کرسابق کپتان عمران خان سے پی سی بی معاملات پر جس مشاورت کا اعلان کیا ہے، اس سے ڈومیسٹک ڈیپارٹمینٹل کرکٹ کے طرفداروں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔ اب جب پاکستان کرکٹ ٹیم کے اندراور باہر لاہور، کراچی کی سیاست کا بھی دور دورہ ہے، چیف آپریٹنگ آفیسر، چیف سلیکٹر، کوچ جیسے پرکشش عہدوں کی آس لیے پی سی بی کے ارد گرد منڈلانے والے جاوید میانداد، ظہیرعباس، محمد الیاس اور انتخاب عالم جیسے دیگر کئی سابق کرکٹرز میں کون کیا بنےگا؟ اس بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی تاریخ کےستائیسویں سربراہ کہتے ہیں، ’’کرکٹرز کی آپس میں بہت گروپنگ اور تقسیم ہے مگر میں سب کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کروں گا اور ابتدا میں مجھے صورتحال کے ادراک کے لیے تین سے چار ماہ درکار ہوں گے۔‘‘

اپنی تقرری کےسترہ دن بعد پی سی بی کی غلام گردشوں میں پھونک پھونک کر قدم رکھنے والے ذکا اشرف کے لیے آنے والے دن قطعی بہار کے نہ ہوں گے کیونکہ انہیں ناصرف اب پاکستان کرکٹ کی بےشما رگھتیاں سلجھانی ہیں بلکہ زرعی ترقیاتی بینک میں اپنے دورمیں ہوئی مبینہ بےضابطگیوں کے لیے سپریم کورٹ کے کٹہرے میں بھی جلد جوابدہ ہونا ہے۔

رپورٹ: طارق سعید، لاہور

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM