1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پی سی او ججز کی اپیلیں خارج

پاکستانی سپریم کورٹ نے عبوری آئینی حکم (پی سی او) کے تحت حلف اٹھانے والےچھ ججوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ان کی طرف سے دائرکی گئیں انٹرا کورٹ اپیلیں خارج کر دی ہیں۔

default

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ نے بدھ کے روز لاہور، سندھ اور پشاور ہائیکورٹ کے 6 ججوں کی اپیلوں پر فیصلہ سنایا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ نے 18ویں آئینی ترمیم میں جنرل مشرف کے اقدامات کی توثیق نہیں کی تھی اس لیے ان کے دور میں حلف لینے والے اب جج نہیں رہے۔ عدالت نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ وہ ان ججوں کو فارغ کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کرے۔

توہین عدالت کے مرتکب ان 6 ججوں میں سے 5 حاضر سروس تھے۔ ان ججوں میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شبر رضا رضوی، جسٹس حسنات احمد خان، جسٹس حامد علی شاہ، جسٹس سجاد علی شاہ جبکہ پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس جہانزیب رحیم اور سندھ ہائی کورٹ کی جسٹس یاسمین عباسی شامل ہیں۔ان ججوں میں صرف سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس افتخار حسین چوہدری ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔

Pakistan Oberster Gerichtshof in Islamabad

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ نے 18ویں آئینی ترمیم میں جنرل مشرف کے اقدامات کی توثیق نہیں کی تھی

فیصلہ آنے کے بعد افتخار چوہدری کے وکیل خالد رانجھا نے اپنے ردعمل میں کہا، ’’ہمارا یہ موقف تھا کہ کسی جج کو آئین کے آرٹیکل 209 کا استعمال کیے بغیر نہیں ہٹایا جا سکتا۔ آج مجھے یہ تاثر ملا ہے اور فیصلہ یہ ہوا ہے کہ 209 کے علاوہ بھی عدلیہ ججوں کو ہٹا سکتی ہے مجھے اس میں ابہام نظر آتا ہے۔‘‘

دوسری جانب وکلاء کی اکثریت نے اس فیصلے کو مستحسن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ نے طالع آزماؤں کے لیے نظریہ ضرورت کو دفن کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اکرام چوہدری نے کہا، ’’پاکستان کی سول اور فوجی بیوروکریسی اور کرپٹ سیاستدانوں اور ان کے ساتھ چلنے والے دیگر افراد کو ہوشیار ہوجانا چاہیے کہ پاکستان کے عوام اور آزاد و خود مختار عدلیہ اور میڈیا یقیناً ان کے لیے کسی نئی مہم جوئی کا متحمل ہے اور نہ ہی انہیں آئین و قانون کے خلاف چلنے دے گا۔‘‘

خیال رہے کہ 3 نومبر2007ء کو سابق صدر پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کے 7 رکنی بینچ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے منع کیا تھا۔ اس کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے 60 ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا۔ جن میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس زاہد حسین بھی شامل تھے اور انہوں نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی تھی۔

قانونی ماہرین کے مطابق پی سی او ججوں کی اپیلیں مسترد ہونے کے بعد سپریم کورٹ ان کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے لیے سماعت کی تاریخ کا اعلان کرے گی۔ پاکستان میں توہین عدالت کی سزا کے قانون کے بارے میں سینئر وکیل رمضان چوہدری نے بتایا، ’’اس کی سزا چھ ماہ کی قید اور جرمانہ ہے اور اگر ایک سے زائد مرتبہ توہین عدالت ہوئی ہو تو سزا زیادہ ہے۔ توہین عدالت ایکٹ میں بھی شقیں موجود ہیں۔ آئین کا آرٹیکل204 بھی آئین کے اس متعلق ہے اس کے تحت عدالت کوئی بھی سزا دے سکتی ہے اور عدالت کو معاف کرنے کا اختیار بھی ہے۔ یہ عدالت پر منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے۔‘‘

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM