1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پی ایس ایل کی غیر معمولی کامیابی!

’پاکستان سپر لیگ‘ کی غیر معمولی کامیابی نے کرکٹ کے کھیل میں پاکستان کا نام ایک مرتبہ پھر بلند کر دیا ہے۔ حالاں کہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اس سپر لیگ کے تمام میچ متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے تھے۔

گزشتہ برس ستمبر میں پاکستان سپر لیگ یا پی ایس ایل کے اعلان کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے 11 ممالک سے نامور کھاڑیوں کو لیگ کا حصہ بنایا اور اس میں شامل 5 ٹیموں کو 93 ملین ڈالر میں فروخت کر ديا گيا۔ پاکستان سپر لیگ میں کرس گیل، کمار سنگاکارا اور کیون پیٹرسن جیسے نامور کھلاڑی بھی شامل تھے۔ 4 فروری کو پی ایس ايل کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان سپر لیگ سے بے پناہ مثبت اقتصادی سرگرمی سامنے آئی ہے۔ کرکٹ میچوں کے دوران براہ راست میچ نشر کرنے والے قومی ٹی وی چینل کو دیکھنے والے افراد کی تعداد سن 2015 کے ورلڈ کپ سے بھی زیادہ تھی۔ منگل کو دبئی میں ہونے والے فائنل میچ کے تمام ٹکٹ پہلے سے ہی فروخت ہوچکے تھے۔ اس حوالے سے روئٹرز کو پاکستان سپر لیگ کے چیرمین نجم سیٹھی نے ایک انٹرویو میں بتایا، ’’بڑے کاروباری اداروں نے پی ایس ایل کی ٹیموں کو خریدا، کئی لاکھ افراد نے یہ میچ ٹی وی پر دیکھے حالاں کہ یہ میچ پاکستان میں کھیلے بھی نہیں گئے اور اس سپر لیگ میں جونيئر کھلاڑیوں کو کرکٹ کے بڑے ناموں کے ساتھ کھیلنے کا موقع بھی ملا۔‘‘

اگر پی ایس ایل کی منصوبہ بندی کا کام جاری رہا تو پی ایس ایل 50 ملین ڈالر کی آمدن دے پائے گی۔ چند ماہرین کی رائے میں 180 ملین آبادی کے ملک کی یہ سپر لیگ دنیا کی سب سے بڑی کرکٹ لیگ بن سکتی ہے۔

کرکٹ کے ايک ماہر عثمان سمیع الدین کا کہنا ہے، ’’جتنی کامیابی اس سپر لیگ نے حاصل کی، جتنی آمدن حاصل ہوئی ہے اور سپر لیگ کے میچوں سے جتنی بڑی تعداد میں عوام محظوظ ہوئی، اس سب سے یہی لگتا ہے کہ پی ایس ایل بہت جلد کرکٹ کی دنیا میں اعلیٰ مقام حاصل کر لے گی۔‘‘

اب تک یہ بات حتمی طور پر نہیں کی جاسکتی کہ پی ایس ایل کب پاکستان میں کھیلی جائے گی۔ سن 2009 میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر طالبان عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد سے پاکستان زیادہ تر کرکٹ میچ ملک سے باہر کھیلتا ہے۔ تاہم ماہرین پی ایس ایل کی غیر معمولی کامیابی کو ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی، پاکستان کرکٹ بورڈ کی معاشی صورتحال اور پاکستان میں نئے کھلاڑیوں کے ابھرنے کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت ٹہرا رہے ہیں۔ نجم سیٹھی اس حوالے سے کہتے ہیں، ’’ اگلے برس ہمیں امید ہے کہ پی ایس ایل کا افتتاحی اور فائنل میچ پاکستان کی سرزمین پر کھیلا جائے۔‘‘

DW.COM