1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پی ایس ایل کا فائنل: سکیورٹی انتہائی سخت

پاکستان سپر لیگ کا فائنل میچ کل پانچ مارچ کو لاہور میں کھیلا جائے گا۔ انتظامیہ نے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے ہیں۔ اسٹیڈیم کے گرد پولیس کے ہزاروں اہلکار اضافی طور پر تعینات کر دیے گئے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ کے فائنل میچ کے انعقاد پر مختلف سیاسی و سماجی حلقوں نے تنقید کی ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ فائنل میچ کے انعقاد پر کرفیو جیسی سکیورٹی سے شہریوں کی زندگیوں کو پریشان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

تنقید کرنے والوں میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فائنل میچ کے موقع پر سکیورٹی میں معمولی سی دراڑ بھی پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی موجودہ کوششوں کا خاتمہ کرتے ہوئے اِس کا مستقبل مزید تاریک کر دے گی۔ ایسا بتایا گیا ہے کہ فائنل میچ کے موقع پر قذافی اسٹیڈیم کے ارد گرد قائم ریسٹورانٹوں میں ہونے والی شادی کی تقریبات کو جبری طور پر منسوخ کروا دیا گیا ہے۔

لاہور میں قذافی اسٹیڈیم کے قریب سن 2009 میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کو دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اُس کے بعد سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کا انعقاد ناممکن ہو چکا ہے۔ اب کل پانچ مارچ کو پاکستان سپر لیگ کا فائنل میچ کھیلا جائے گا۔ اس میچ کے تمام ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ کے سیمی فائنل مرحلے تک کے تمام میچز خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے تھے۔ پی ایس ایل کا فائنل میچ کوئٹہ گلیڈی ایٹر اور پشاور زلمی کے درمیان کھیلا جائے گا۔

فائنل میچ کے انعقاد سے قبل کئی غیر ملکی کھلاڑیوں نے لاہور میں کھیلنے سے معذوری کا اظہار کر دیا ہے۔ انگریز کھلاڑیوں کیون پیٹرسن، لیوک رائٹ اور ٹائمل ملز واپس جا چکے ہیں۔ یہ کھلاڑی کوئٹہ گلیڈی ایٹر میں شامل تھے۔ اسی طرح جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے ریلی رُوسو اور نیوزی لینڈ کے ناتھن میککلم بھی لاہور کے میچ میں شریک نہیں ہو رہے۔

پشاور زلمی کا یہ دعویٰ ہے کہ اُس کے پانچوں غیر ملکی کھلاڑی فائنل میچ میں شریک ہو رہے ہیں۔ ان میں دو ڈیرن سیمی اور مارلن سیموئلز کا تعلق ویسٹ انڈیز سے ہے۔ انگلینڈ کے کھلاڑی کرس جارڈن، سمیت پٹیل اور ڈیوڈ مالان لاہور جانے کے لیے تیار بتائے گئے ہیں۔ ان کھلاڑیوں کی جانب سے ابھی تک تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ لاہور کا قذافی اسٹیڈیم پہلے ہی پولیس نے اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔