1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پی آئی اے ملازمین کی ہڑتال، ستر کروڑ روپے کا نقصان

پاکستان میں قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے ملازمین کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری ہے، جس سے وفاقی دارالحکومت سمیت دیگر شہروں سے اندرون و بیرون ملک پروازوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔

default

پروازوں میں تاخیر کے سبب ملک کے مختلف ایئر پورٹس پر سینکڑوں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے وزیر دفاع احمد مختار کو ہدایت کی ہے کہ وہ پی آئی کے ہڑتالی ملازمین سے بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالیں۔ بدھ کے روز بھی سب سے زیادہ احتجاج اسلام آباد کے بےنظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کیا گیا۔

ہڑتالی ملازمین نے نہ صرف ایئرپورٹ کی حدود میں انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی بلکہ ایئر پورٹ کے سامنے سے گزرنے والی اہم ترین شاہراہ کو گھنٹوں تک بلاک رکھا۔ اس موقع پر ایئرپورٹ پر موجود مسافروں نے بھی حکومت اور پی آئی اے انتظامیہ اور ملازمین کے رویئے کے خلاف احتجاج کیا۔ ان مسافروں کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اور ملازمین کی لڑائی میں مسافروں کو بے پناہ نقصان پہنچا ہے۔

Pakistan International Airlines

ماہرین کے مطابق دو دن سے جاری ہڑتال کے سبب پی آئی اے کو ستر کروڑ روپے سے زائد کا خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے

دوسری جانب پاکستان ایئرلائن پائلٹ ایسوسی ایشن (پالپا) کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان کی ہڑتال پی آئی اے انتظامیہ کے ترک قومی ہوائی کپمنی کے ساتھ مجوزہ معاہدے کے خاتمے اور ایم ڈی پی آئی اے کی برطرفی تک جاری رہے گی۔ پالپا کے صدر سہیل بلوچ نے بدھ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم ڈی پی آئی اے اعجاز ہارون کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ ترک قومی ہوائی کپمنی کے ساتھ فضائی روٹس میں شراکت داری کے معاہدے سے پی آئی اے کے مسافروں کی تعداد میں یکدم چھپن فیصد اضافہ ہو جائے گا۔ سہیل بلوچ کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پی آئی اے کے مسافروں کی تعداد میں سالانہ تین سے چھ فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔

پی آئی کے ترجمان مشہود تاجور کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے ملازمین کی ہڑتال اسی شاخ کو کاٹنے کے مترادف ہے، جس پر ان کا آشیانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بیرون ملک امیج بری طرح متاثر ہو رہا ہے جبکہ اندرون ملک مسافروں کا اعتماد بھی پی آئی اے سے اٹھ رہا ہے ہے۔ مشہود تاجور کے مطابق پی آئی اے کے بیڑے میں کل چالیس جہاز ہیں، جن میں سے آٹھ اسلام آباد ایئرپورٹ پر ملازمین نے محصور کر رکھے ہیں، جس کے سبب انتظامیہ مسافروں کے لیے متبادل بندوبست کرنے سے قاصر ہے۔

دریں اثناء پی آئی اے کے ایم ڈی اعجاز ہارون بدھ کی سہ پہر اپنے حامی ڈیڑھ سو ملازمین کے ہمراہ کراچی سے اسلام آباد پہنچے، جہاں انہیں ہڑتالی ملازمین کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ خفیہ راستے سے نکل کر اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جہاں پر وہ ہڑتال کے خاتمے کے لیے پی آئی اے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی ، اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے ہڑتال کے خاتمے کے سلسلے میں مذاکرات کریں گے۔

ماہرین کے مطابق دو دن سے جاری ہڑتال کے سبب پی آئی اے کو ستر کروڑ روپے سے زائد کا خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے جو پہلے ہی معاشی طور پر تباہ حال ایئر لائن کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM