1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پی آئی اے کے جرمن  سی ای او کا ایگزٹ کنڑول لسٹ میں نام

وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے سی ای او Bernd    Hilderbrand کا نام ایگزٹ کنڑول لسٹ میں ڈالے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔ پی آئی اے کے سربراہ جرمنی کے شہری ہیں۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ کے ان کا نام دو یا تین دن پہلے ہی ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے۔ قومی ایئر لائن کے سی ای او کا ای سی ایل میں نام ڈالے جانے کے بعد یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور اب یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ پی آئی اے میں کرپشن کے حوالے سے آنے والے دنوں میں اہم انکشافات ہوں گے۔
چوہدری نثار نے پی آئی اے میں بدانتظامی اور کرپشن کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا،’’چند لوگ اسے نچوڑ کے کھا چکے ہیں۔ میں نے ایف آئی اے سے چار مہینے پہلے کہا تھا کہ انکوائری ہونی چاہیے۔ اس پر انکوائری بڑی تیزی سے آگے بڑھی ہے۔ میں وزیرِ اعظم کو بھی مطلع کر چکا ہوں۔ متعلقہ شخص کا نام دو یا تین دن پہلے ای سی ایل میں ڈال دیا گیا تھا۔ جو کچھ میں نے ابتدائی رپورٹ میں دیکھا۔ وہ اذیت ناک ہے۔ ایک طرف معاشی ومالی طور پر پی آئی اے ڈوب رہا ہے اور دوسری طرف چند لوگ، ایک مافیا اسے اس طرح نچوڑ رہی ہے، جس طرح لیچیز نچوڑتے جاتے ہیں۔ میں اس کی چھوٹی سے مثال دیتا ہوں۔ ایک جہاز ویٹ لیز پر آیا، پی آئی نے لیا آٹھ ہزار ڈالر پلس فی گھنٹہ جب کہ ایک پرائیوٹ ایئر لائن نے چار ہزار ڈالر فی گھنٹہ لیا۔ ذرا اس فرق کو دیکھیں۔ میں اگر اور کہانیاں سناؤں تو آپ کان پکڑ لیں گے۔‘‘
چوہدری نثار کے اس بیان نے پی آئی اے کے ملازمین کے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ ادارے کا مسئلہ صرف ملازمین کی تعداد نہیں بلکہ اصل مسئلہ اعلیٰ سطح پر ہونے والے کرپشن کا ہے۔

Chaudhry Nisar Ali Khan

چند لوگ اسے نچوڑ کے کھا چکے ہیں، چوہدری نثار


اس حوالے سے پی آئی اے میں متعدد بار سی بی اے رہنے والی پیپلز یونٹی کے جنرل سیکریٹری سہیل مختار نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’لیز پر یہ طیارہ لینے کی وجہ سے ایک اندازے کے مطابق ادارے کو صرف تین ماہ میں تین ارب روپے کے قریب کا نقصان ہوا ہے۔ پی آئی اے کا مسئلہ یہ ہے کہ ماضی میں اس کے منافع بخش روٹس بیچ دیئے گئے اور اب جہاز ایسے روٹس پر چلائے جارہے ہیں جہاں ان کو نہیں چلایا جانا چاہیے یا مسافروں کی تعداد کم کر کے چلانا چاہیے۔ مثال کے طور پر اے تین سو بیس نمبر کے طیارے میں ایک سو اٹھاون مسافروں کی گنجائش ہے جبکہ اس طیارے میں ایک سو بیس مسافروں کا صرف سامان رکھا جا سکتا ہے۔ اب مسافر واپس آجاتے ہیں لیکن ان کا سامان بعد میں آتا ہے، جس کی وجہ سے انہیں شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ اگلی بار کسی اور ایئر لائن کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے ہمارے ادارے کا نقصان ہوتا ہے۔ ایسے دس طیارے اس وقت ہمارے پاس ہیں، تو آپ اندازہ لگا لیں کہ کتنے مسافروں کو روزانہ اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’میری اطلاع کے مطابق اور بھی کئی افسران کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں اور جلد ہی تفتیش کا دائرہ کار آگے بڑھے گا، جس سے مزید انکشافات سامنے آئیں گے۔‘‘
اس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر مشاہدا للہ خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ہم پہلے ہی کہہ رہے کہ کہ پی آئی اے میں معاملات ٹھیک نہیں چل رہے ہیں۔ ہم نے کئی بار سی ای او کو بلایا کیوں کہ سینیٹرز ان سے سوالات کرنا چاہتے تھے۔ ان کے پاس سوالات کے جوابات نہیں تھے۔ یہ ایک اچھا قدم ہے اور تفتیش کے دائرے کو بڑھانا چاہیے تاکہ اس قومی ادارے کو ایک بار پھر کرپشن سے پاک کیا جا سکے۔‘‘
سینیٹر سلیم ماونڈی والا نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’سی ای او حکومتی ضابطے اور پی آئی اے کے قوانین کی خلاف ورزی کر رہا تھا، تو یہ تو ہونا تھا۔ قومی ایئر لائن کے دو چیئرمین مستفعی ہوچکے ہیں لیکن یہ بدستور کام کرتا رہا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ وہ کسی بھی وقت ملک چھوڑ سکتا ہے۔‘‘

Pakistan International Airlines Chef Azam Saigol

اعظم سہگل نے گزشتہ برس دسمبر میں پی آئی اے کی چیئرمن شپ سے مستعفی ہو گئے تھے


پی آئی کے ترجمان نے اس مسئلے کے حوالے سے کہا، ’’جو کچھ چوہدری نثار صاحب نے کہا ہے وہ کافی ہے۔ میں مزید کچھ کہنا نہیں چاہتا۔‘‘
پی آئی اے کے حلقوں میں یہ بات بھی گردش کر رہی ہے کہ سی ای او کی بیوی ایک بھارتی ایئر لائن کے لیے کام کرتی ہے۔ تاہم پی آئی اے کے ایک اہم ذریعہ نے اس تاثر کی تردید کی اور کہا کہ سی ای اوکو سکیورٹی کلیئرنس کے بعد ہی اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔
حکومتی جماعت کے ایک اہم رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’یہ صرف سی ای او کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ قومی ایئر لائن میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہو رہی ہے، جس میں کئی اعلیٰ عہدیدار ملوث ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں رہنے والے ایک وفاقی وزیر کے داماد بھی ان اشخاس میں شامل ہیں، جنہوں نے اس ادارے کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ادارے میں اگر مارکیٹنگ لیکیچیز ختم ہوجائیں تو نقصان پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہ تو ابتدا ہے ابھی اور چیزیں بھی سامنے آئیں گی۔‘‘