1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پی آئی اے: چالیس طیاروں کی خرید کا منصوبہ

پاکستانی حکومت نے مسلسل مالی خسارے کی شکار قومی فضائی کمپنی PIA کے پاس موجود مسافر طیاروں کی تعداد میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا مقصد اس ایئر لائن کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔

default

پی آئی اے مسلسل خسارے کا شکار ہے

پاکستانی وزیر دفاع احمد مختار نے جمعرات کو اسلام آباد میں ملکی پارلیمان کو بتایا کہ حکومت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کے لئے اگلے پانچ برسوں میں مجموعی طور پر 40 نئے مسافر طیارے خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

احمد مختار نے ارکان پارلیمان کو بتایا کہ PIA کے فضائی بیڑے میں توسیع کے ذریعے سرکاری انتظام میں کام کرنے والے اس ادارے کے مسلسل بڑھتے ہوئے کاروباری خسارے کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس دوران مستقبل میں نئے کمرشل روٹ بھی متعارف کرائے جائیں گے۔

Lahore Flughafen International Airport

علامہ اقبال انٹرنیشنل ائرپورٹ لاہور

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی کی تجارتی پروازیں بہت سے اندرون ملک شہروں کے علاوہ متعدد غیر ملکی منزلوں تک بھی جاتی ہیں۔ پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں بوئنگ 777 اور 747 طرز کے طیاروں کے علاوہ بوئنگ 737، ایئر بس A130 اور ATR-42 ساخت کے متعدد ہوائی جہاز بھی شامل ہیں۔

اس ایئر لائن کے لئے 40 نئے طیارے خریدنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر دفاع احمد مختار نے کہا کہ اگر پی آئی اے کے لئے نئے طیارے نہ خریدے گئے تو اس فضائی کمپنی کو بند کرنا پڑ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی وزارت دفاع ان نئے طیاروں کی خریداری سے متعلق اپنا منصوبہ اسی مہینے ملکی کابینہ کو پیش کر دے گی۔ انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

احمد مختار نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی یہ سرکاری ایئرلائن حکومت سے کوئی مالی مراعات حاصل نہیں کررہی۔ ’’پی آئی اے نے بینکوں سے قرضے لئے تھے، جو اب واپس کئے جا رہے ہیں۔‘‘

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس کمپنی کو سال رواں کے پہلے نو ماہ کے دوران 135.8 ملین ڈالر کا خسارہ ہوا تھا۔ مجموعی طور پر اس فضائی کمپنی کے تجارتی خسارے کی مالیت 88 بلین روپے یا قریب ایک بلین امریکی ڈالر بنتی ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس