1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پی آئی اے میں اصلاحات کی کوشش حوصلہ افزا، آئی ایم ایف

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کی طرف سے شدید مالی مشکلات کا شکار قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے ڈھانچے میں اصلاحات کی کوششیں حوصلہ افزا ہیں جن کے نتائج کا انتظار کیا جائے گا۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے بدھ تیرہ اپریل کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق آئی ایم ایف کی طرف سے آج کہا گیا کہ پاکستان میں وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کو ایک لیمیٹڈ کمپنی میں بدلنے کے ساتھ ساتھ اس ادارے کے ڈھانچے میں جامع اصلاحات کے لیے اب تک جو عملی کوششیں کی ہیں، وہ کافی حوصلہ افزا ہیں، تاہم ساتھ ہی انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ دیکھا جانا ابھی باقی ہے کہ آیا ان اصلاحات کے اس ایئر لائن کے لیے نتائج واقعی دور رس ثابت ہوتے ہیں۔

پاکستانی پارلیمان نے گزشتہ پیر گیارہ اپریل کے روز اکثریتی رائے سے ایک ایسے مسودہء قانون کی منظوری دے دی تھی، جس کا مقصد پی آئی اے کو ایک لیمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرنا ہے لیکن ساتھ ساتھ ہی اس قانونی مسودے کے تحت حکومت کو اس فضائی کمپنی کی انتظامیہ پر اپنا کنٹرول ختم کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے 2013 میں اقتدار میں آنے کے بعد ملک کے سرکاری انتظام میں کام کرنے والے بڑے اداروں کی نج کاری کو اپنا اولین مقصد بنانے کا اعلان کیا تھا۔ ساتھ ہی پی آئی اے اور سرکاری انتظام میں کام کرنے والی 67 دیگر کمپنیوں کی نج کاری کا ایک پرائیویٹائزیشن پیکج بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی طرف سے امداد کے 6.7 بلین ڈالر کے اس پیکج کا بھی اہم حصہ تھا، جس کے نتیجے میں ہی پاکستان اپنے ذمے واجب الادا قرضوں کی ادائیگی کے قابل نہ رہنے سے بچنے میں کامیاب ہوا تھا۔

اس معاہدے کے بعد اب تک کی صورت حال یہ ہے کہ پاکستانی حکومت ان سرکاری اداروں کی نج کاری اور اضافی مالی وسائل پیدا کرنے کے عمل میں اپنے اہداف کے حصول میں ناکام تو رہی لیکن آئی ایم ایف کی طرف سے اسے اربوں ڈالر مالیت کے اس پیکج کی مختلف قسطوں کی ادائیگی بہرحال جاری رہی۔

Pakistan Gewalt bei Protesten Polizei und Streik von Pakistan International Airlines

پی آئی اے کی مجوزہ نج کاری کے خلاف کیے جانے والے ٹریڈ یونین مظاہرے کئی مرتبہ پرتشدد رنگ اختیار کر گئے

اس بارے میں پاکستان میں آئی ایم ایف کے مشن چیف ہیرالڈ فِنگر نے بدھ کے روز روئٹرز کو ای میل کے ذریعے بتایا، ’’ہم اس امر کو حوصلہ افزا سمجھتے ہیں کہ پی آئی اے کی نج کاری کے سلسلے میں ایک اتفاق رائے تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کر لی گئی ہے۔ تاہم ہمیں ابھی اس مجوزہ قانونی مسودے کے، جسے پارلیمان نے منظور کر لیا ہے، مطالعے کی ضرورت ہو گی۔ اس کی روشنی میں پاکستانی حکام کے ساتھ اس بارے میں بھی تفصیلی مکالمت کی ضرورت ہو گی کہ اصلاحات کے بعد سامنے آنے والی پی آئی اے کو، جو ایک لیمیٹڈ کمپنی ہو گی، خالصتاﹰ ایک تجارتی ادارے کے طور پر چلایا جائے۔‘‘

ہیرالڈ فنگر کے مطابق اس بارے میں بھی تبادلہ خیال ضروری ہو گا کہ پی آئی اے کے انتظامی اختیارات پرائیویٹ سیکٹر کو منتقل کیے بغیر اس نئی کمپنی کی کارکردگی کو کس طرح بہتر بنایا جائے گا۔‘‘

پی آئی اے کو اس وقت مجموعی طور پر تین بلین ڈالر سے زائد کے مالی خسارے کا سامنا ہے۔