1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پی آئی اے مزید قرضے کے بوجھ تلے

پاکستان ایئر لائنز (پی آئی اے) نے ایک بینکاری کنسورشیم سے مزید ایک سو تیس ملین ڈالر کا قرض حاصل کیا ہے۔ اس طرح ’آخری سانیس لیتے ہوئے‘ اس قومی ادارے کے مجموعی قرضے تین ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔

پاکستان ایئر لائنز کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق مختلف بینک مل کر اسے مزید ایک سو تیس ملین ڈالر کا قرض فراہم کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں۔ مرکزی طور پر یہ قرض پاکستان یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) اور کریڈیٹ سوئس سنگاپور (سی ایس ایس) فراہم کریں گے لیکن پاکستان کا سرکاری نیشنل بینک بھی اس منصوبے میں شامل ہے۔

پاکستان کے اس ادارے کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق، ’’ اس سہولت (قرض)  کو پی آئی اے کی عام ورکنگ کیپٹل کی ضروریات اور مسافروں کی خدمات میں بہتری لانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔‘‘

پی آئی اے عملہ اب نئے یونیفارم میں

تاہم پی آئی اے کے ایک عہدیدار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ تازہ قرضے کو پہلے سے لیے گئے قرضوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اس وقت پی آئی اے کا مجموعی قرض 329 ارب روپے یا 3.16 ارب ڈالر بنتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس ادارے کو سالانہ بنیادوں پر اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ سن دو ہزارہ پندرہ میں اس ادارے کو 32 ارب روپے کا خسارہ منتقل ہوا ہے۔

رواں برس کے آغاز پر وزیراعظم نواز شریف نے اس ادارے کی نجکاری کا فیصلہ کیا تھا لیکن اس ادارے کے اٹھارہ ہزار ملازمین کی طرف سے شدید احتجاج کے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا تھا۔ رواں برس جنوری کے آغاز میں کراچی میں اس ادارے کے ہیڈکوارٹر کے قریب اس وقت دو ملازمین ہلاک ہو گئے تھے، جب پولیس نے احتجاج کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی تھی۔

DW.COM