1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پی آئی اے عملہ اب نئے یونیفارم میں

پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے 14 اگست سے اسلام آباد سے لندن اپنی خصوصی ’پریمیئر‘ سروس کا آغاز کر رہی ہے۔ اس نئی سروس میں پی آئی اے کی ایئر ہوسٹس دلفریب اور جدید یونیفارم میں نظر آئیں گی۔

پاکستان کے یوم آزادی کے دن پاکستان کی قومی ایئر لائن اسلام آباد سے لندن ایک خصوصی پرواز کا آغاز کررہی ہے۔ ان خصوصی پروازوں کے لیے پی آئی اے نے سری لنکا سے اے330 طیارہ لیز پر لیا ہے۔ پی آئی اے نے اس طیارے کو ہرے، سبز اور سنہری رنگوں سے 14 اگست سے شروع ہونے والی خصوصی پروازوں کے لیے پینٹ بھی کیا ہے۔ پی آئی کے ترجمان دانیال گیلانی نے اس جہاز کی تصاویر کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شائع کیا ہے۔

اس خصوصی سروس کے لیے پی آئی نے ایئر ہوسٹس کے لیے نیا یونفیارم بھی متعارف کروایا ہے۔ اس یونیفارم کو پاکستان کے مقامی ڈیزائنرز نومی انصاری اور سانیہ مسکاتیا نے ڈیزائن کیا ہے۔ یونیفارم میں نیلا، سبز اور کلیجی رنگ استعمال کیا گیا ہے۔ ٹوپی بھی ایئر ہوسٹسز کے لباس کا حصہ ہے۔ دلفریب رنگوں اورڈیزائن سے بنایا گیا دوپٹہ اس یونیفارم کو جازب نظر بناتا ہے۔

پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق’’ اس ’پریمیئر‘ سروس میں ہر ہفتے لندن سے لاہور چھ پروازوں کو بندو بست کیا جائے گا۔ اس نئی سروس میں پاکستانیوں کے ساتھ سری لنکن عملہ بھی کام کرے گا۔ پی آئی اے اس سال فروری میں اُس وقت خبروں میں آیا جب اس کے اسٹاف نے اس ادارے کی نجکاری کے خلاف ملک گیر ہڑتال کر دی تھی۔ یہ ادارہ کئی برس سے خسارے میں جا رہا ہے اور اسے منافع بخش بنانے کے لیے پی آئی اے انتظامیہ کچھ عرصے سے نئی قیش قدمیاں کر رہی ہے۔

گزشتہ ماہ پی آئی اے نے سری لنکن ایئر لائن کے ساتھ تین اے 330 طیارے لیز پر لینے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ باقی دو طیارے فروری 2017 تک پاکستان کو دے دیے جائیں گے۔

DW.COM