1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پیگیڈا کی پہلی سالگرہ: پولیس چوکنا، تلخیاں بڑھتی ہوئی

آج پیر کے روز ہزاروں کی تعداد میں افراد جرمن شہر ڈریسڈن میں مہاجرین مخالف جرمن تنظیم پیگیڈا کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ایک ریلی میں شرکت کر رہے ہیں۔ مہاجرین کی کثیر تعداد میں یورپ آمد نے اس تحریک میں نئی روح پھونک دی ہے۔

مشرقی جرمنی میں واقع شہر ڈریسڈن میں آج پیر کے روز ہزاروں افراد ریلی نکال رہے ہیں جس کا مقصد انتہائی دائیں بازو کی اسلام اور مہاجرین مخالف تنظیم کے قیام کے ایک برس پورے ہونے کا جشن منانا ہے۔ یہ اجتماع ایک ایسے وقت منعقد ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ کے بحران زدہ علاقوں، بالخصوص عراق اور شام سے، لاکھوں کی تعداد میں افراد نقل مکانی کر کے یورپ کا رخ کر رہے ہیں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے مہاجرین کے حوالے سے خاصی فراخ دلانہ پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔ مشرقی یورپ کے بعض ممالک کے برعکس، جرمنی زیادہ سے زیادہ مہاجرین کو خوش آمدید کہہ رہا ہے، اور یہ بات اس ملک کے دائیں بازو کے حلقوں کے لیے باعث تشویش ہے۔ چند ماہ قبل پیگیڈا اپنا اثر کھوتی جا رہی تھی تاہم مہاجرین کے تازہ بحران نے اس تنظیم میں نئی جان ڈال دی ہے۔

دوسری جانب ڈریسڈن، جو کہ پیگیڈا کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، اور جرمنی کے دوسرے علاقوں میں مہاجرین کی حمایت میں بھی ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ جرمن عوام کی بڑی تعداد مہاجرین کے خلاف نہیں اور میرکل کی پالیسیوں کی تائید کرتی ہے۔

ڈریسڈن سے تعلق رکھنے والے سیاست دان مارکوس البگ نے پیگیڈا کے حامیوں اور مخالفین سے اپیل کی ہے کہ وہ پر امن رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کو خطرہ ہے کہ شہر میں صورت حال کشیدہ ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہے کیوں کہ اس سے جرمنی کی جمہوری بنیادوں پر ضرب پڑے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس پیگیڈا کے قیام کے وقت بہ مشکل چند سو افراد ہی اس تنظیم کی ریلیوں میں شریک ہوتے تھے، تاہم بارہ جنوری کو ہونے والے اس تنظیم کے ایک مظاہرے میں پچیس ہزار افراد شریک ہوئے۔ اس کے بعد منظر عام پر آنے والے چند اسکینڈلز کی وجہ سے پیگیڈا کی شہرت میں کمی واقع ہوئی، تاہم یہ تنظیم ایک مرتبہ پھر سر اٹھا رہی ہے۔

بائیں بازو کی جماعتیں اور ڈریسڈن کی انتظامیہ پیگیڈا کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ بعض موقعوں پر لبرل تنظیموں نے پیگیڈا کے مقابلے میں بھرپور ریلیاں نکال کر یہ ثابت کیا کہ جرمنی میں مہاجرین مخالف جذبات عمومی نہیں ہیں۔