1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پیپلز پارٹی کا صدر زرداری پر اظہار اعتماد

پاکستان میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف بدعنوانی سے متعلق کسی بھی قسم کے الزامات کا عدالتوں میں مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

default

پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ایوان صدر میں شریک چیئر پرسن و ملکی صدر آصف علی زرداری کی سربراہی میں ہوا۔ اس اجلاس میں صدر زرداری کی قیادت پر متفقہ طور پر اظہار اعتماد کی قرار داد بھی منظور کی گئی۔

خصوصی اجلاس کے دوران پارٹی قیادت پر قائم کئے گئے مقدمات کا معاملہ زیر بحث ر ہا۔ اجلاس میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے علاوہ پارٹی کے سیکریٹری جنرل جہانگییر بدر، مرکزی رہنماؤں رضا ربانی، اعتزاز احسن، مخدوم امین فہیم اور شیری رحمان سمیت چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے اراکین بھی شریک ہوئے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے واضح کردیا گیا ہےکہ جن وزراء کو قومی مصالحتی آرڈیننس کے ختم ہونے کے بعد مقدمات کا سامنا ہے ان سے استعفی نہیں لئے جائیں گے۔

Raza Gilani pakistanischer Premierminister

وزیراعظم گیلانی نے وزیردفاع کو ایئرپورٹ پر روکے جانے کو قومی وقار کے منافی قرار دیا ہے

سپریم کورٹ کی جانب سے قومی مصالحتی آرڈیننس این آر او کو کالعدم قرار دئے جانے کے بعد ملک بھر کی احتساب عدالتوں نے بدعنوانیوں کے مقدمات کو بحال کر کے کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ جمعہ کے روز کراچی کی ایک احتساب عدالت نے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کے ایک مقدمہ میں مفروری کی وجہ سے وارنٹ گرفتاری جاری کئے۔ ایک اور واقعے میں وزیر دفاع احمد مختار کو چین جانے سے ایئر پورٹ پر روکا گیا۔ این آر او کے تحت مقدمات کی بحالی کے بعد ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں وزیر دفاع کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔ وزیراعظم گیلانی نے وزیردفاع کو ایئر پورٹ پر روکے جانے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوے اسے قومی وقار کے منافی قرار دیا ہے۔

ہفتہ کی شب منعقدہ اجلاس کے موقع پر پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر بدر کا کہنا تھا کہ گزشتہ تیس برس میں صرف پیپلز پارٹی کے راہنماوں اور کارکنوں کا احتساب ہوا ہے اور باقی کسی جماعت کو اس طرح جواہدہ نہیں ہونا پڑا ہے۔ جہانگیر بدر نے ایوان صدر میں میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمات جنرل پرویز مشرف کے دورمیں سیاسی انتقام لینے کے لئے قائم کئے گئے تھے۔

صدر زرداری کے خلاف بدعنوانی کے متعدد مقدمات قائم ہیں جبکہ وہ ماضی میں گیارہ سال جیل بھی کاٹ چکے ہیں۔ اسی طرح وزیراعظم گیلانی بھی جنرل مشرف کے دور حکومت میں پانچ سال جیل کاٹ چکے ہیں۔ سیاسی مبصر رسول بخش رئیس کے بقول حالیہ صورتحال سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور عدلیہ کے بیچ رسہ کشی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ دفاعی تجزیہ نگار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ عدلیہ کو صدر زرداری اور ان کے ساتھیوں، بیوروکریٹس کے احتساب کے ساتھ ساتھ ان فوجی جرنیلوں کا بھی احتساب کرنا چاہیے، جنہوں نے دفاعی سودوں میں بھاری کمیشن وصول کئے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM