1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پیپلز پارٹی نیا وزیراعظم نامزد کرے: فضل الرحمان

حکومتی اتحاد سے علیحدگی اختیار کرنے والے مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے پیپلز پارٹی سے نئے وزیراعظم کی نامزدگی کا مطالبہ کیا ہے۔

default

منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اگر صدر مملکت نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو پھر جمہوریت پٹڑی سے اتر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’موجودہ اور بعد میں پیدا ہونے والی صورتحال کیا یہ حکومت کے لیے ٹف ٹائم نہیں ہے۔ ٹف ٹائم کے سینگ تو نہیں ہوتے بلکہ ایسی ہی صورتحال ہوتی ہے، جس طرح حکومت اس وقت انتہائی دباؤ میں ہے ۔ ایسے حالات میں حکومتیں نہیں چلتیں کیونکہ جب تک صدر مملکت کوئی بڑا اقدام نہ اٹھاتے یہ صورتحال بہتر ہونے والی نہیں۔‘‘

ادھر جے یو آئی (ف) کے بعد حکومت کی سب سے بڑی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے وزراء کی وفاقی کابینہ سے علیحدگی نے ملکی سیاست میں طوفان برپا کر رکھا ہے۔ سیاسی پنڈت ان ہاؤس تبدیلی سے لے کر حکومت کی بساط لپیٹے جانے تک کے تجزیئے کر رہے ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کی قیادت تیزی کے ساتھ سیاسی اختلافات پر قابو پانے کے لیے تگ و دو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Pakistans neuer Präsident Asif Ali Zardari

پیپلز پارٹی قیادت کی سیاسی اختلافات پر قابو پانے کے لیے تگ و دو جاری ہے

منگل کے روز ایوان صدر سے جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان کے مطابق صدرآصف علی زرداری نوڈیرو سے کراچی پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ نئی سیاسی صورتحال پر پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کریں گے۔ وزیر قانون بابر اعوان بھی اس وقت کراچی میں موجود ہیں، جہاں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی جلد ناراض اتحادیوں کو منا لے گی۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کی قیادت میں لفظوں کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایم کیو ایم کےقائد الطاف حسین نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو ٹیلی ویژن پر سیاسی مناظرے کا چیلنج دیا ہے، جسے مسلم لیگ ن نے قبول کر لیا ہے۔ لفظوں کی اس جنگ کا آغاز بظاہر نواز شریف کی جانب سے مظفر آباد میں ایک جلسہ عام کے موقع پر ایم کیو ایم کے خلاف تقریر سے ہوا۔

مسلم لیگ ن کے ترجمان صدیق الفاروق کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم ماضی میں بھی اس طرح کی سیاسی چالیں چلتی رہی ہے اور بھی اس کا حکومت سے الگ ہونا کسی سیاسی چال کے تابع دکھائی دیتا انہوں نے کہا: ’’انہوں نے تو کسی اصول کی بنیاد پر یہ بات نہیں کی نہ ہی یہ حکومتی کرپشن پر علیحدہ ہوئے ہیں بلکہ انہوں نے تو ذوالفقار مرزا کے بیان کے جواب میں یہ علیحدگی اختیار کی ہے۔ یہ تو اصولی نہیں بلکہ ذاتی بات ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ استعفے سودے بازی کے لیے استعمال ہوتے ہیں یا کچھ لو اور کچھ دو کے لیے۔‘‘

اس ساری صورتحال میں عوامی نیشنل پارٹی وہ واحد جماعت ہے جو اب تک مضبوطی کے ساتھ پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑی ہے ۔ اے این پی کے رہنما اور وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے کسی بھی طرح حکومتی تبدیلی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا: ’’یہ کوئی خطرے کی بات نہیں ہے ہماری حکومت انشاء اللہ پانچ سال پورے کرے گی آپ دیکھیں گے کہ ہماری اکثریت کم نہیں ہوگی۔‘‘ تجزیہ نگاروں کے مطابق سیاست میں کوئی بات بھی حتمی نہیں سمجھی جاتی اور اب دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کی ناراضگی کو دوبارہ رضا مندی میں تبدیل کرنے کے لیے کیا اقدامات اٹھاتی ہے۔؟

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM