1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان دوری کا نیا دور

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات کے انعقاد کے دوران بےضابطگیوں کےالزامات تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے پیپلز پارٹی پر عائد کیے گئے۔ اسی تناظر میں متحدہ قومی موومنٹ نے حکومت سے علیحدگی کے فیصلے کا اعلان کردیا ہے۔

default

گیلانی اور عشرت العباد: فائل فوٹو

حکومت سے علیحدگی کے علاوہ صوبہ سندھ کے گورنر عشرت العباد اپنے منصب سے استعفیٰ دینے کے بعد بیرون ملک روانہ ہو گئے ہیں۔ حکومت سے علیٰحدگی کا فیصلہ متحدہ کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے پیر روز ہونے والے طویل اجلاس میں کیا گیا۔ رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں طے ہونے والے فیصلوں کا اعلان متحدہ کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے پریس کانفرنس میں کیا۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں مرکز اور صوبائی حکومتوں سے علٰیحدگی کی فوری وجہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے الیکشن بنے۔ ان انتخابات کے دوران پیپلز پارٹی پر بے ضابطگیوں کا الزام تمام سیاسی جماعتیں لگا رہی ہیں۔

Pakistan Politik Koalition

پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ حکومتی اتحاد کی دو اہم جماعتیں تھیں

پیر کے روز پریس کانفرنس میں متحدہ کے لیڈروں نے بتایا کہ صوبے اور مرکز میں اب وہ اپوزیشن بینچوں پر اپنا کردار ادا کریں گے۔ پریس کانفرنس میں ڈاکٹر فاروق ستار نے کئی اختلافی موضوعات پر اپنی پارٹی کی پالیسیوں اور حکومت کی حمایت کرنے کے سابقہ فیصلوں پر اظہار خیال کیا۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی پارلیمانی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ ان کی سیاسی جماعت کے تمام چھوٹے بڑے کارکن اور صوبائی و قومی اسمبلی کے اراکین موجودہ حکومت کے غیر جمہوری اور آمرانہ رویے سے نالاں ہیں اوراس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی قیادت میں قائم حکومت کے ساتھ مزید چلنا ممکن نہیں۔ فاروق ستار نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومتی پارٹی آمرانہ ذہنیت رکھتی ہے اور اپنے اتحادیوں کے خلاف جابرانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔

Pakistan MQM Altaf Hussain

متحدہ کے کارکن پیپلز پارٹی کی پالیسیوں سے تنگ ہیں

صوبہ سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد اپنے منصب سے استعفیٰ دینے کے بعد براستہ دبئی لندن کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ ہوائی اڈے پر مختصراً بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے قائد سے ملاقات کرنے جا رہے ہیں اور ان کی واپسی ابھی طے نہیں ہے۔

پاکستان میں مرکز میں قائم پیپلز پارٹی کی حکومت سے متحدہ قومی موومنٹ کی علٰیحدگی کے بعد اب اسمبلی میں اس کے اراکین کی تعداد 207 رہ گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کی ایک اور اتحادی پارٹی پاکستان مسلم لیگ (ق) نے حکومت کو بارہ گھنٹے کی مہلت دی ہے کہ وہ معاملات کو درست کر لے۔ چوہدری شجاعت حسین نے متحدہ کے قائد الطاف حسین سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ صدر آصف زرداری نے وزیر داخلہ رحمان ملک کو خصوصی ہدایت دی ہیں کہ وہ متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ پیدا شدہ اختلافات کو ختم کرنے میں فوری طور پر متحرک ہو کر فعال کردار ادا کریں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس