1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’پینیٹا وزیر دفاع، پیٹریاس سی آئی اے کے سربراہ ہوں گے‘

امریکی صدر باراک اوباما اپنی قومی سلامتی کی ٹیم میں تبدیلیاں کرنے جا رہے ہیں۔ وہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پینیٹا کو وزیر دفاع جبکہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کو سی آئی اے کا سربراہ نامزد کریں گے۔

default

لیون پینیٹا

یہ مجوزہ تبدیلیاں آئندہ برس امریکہ میں صدارتی انتخابات کی مہم سے پہلے ہونا طے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اوباما افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کو سی آئی اے کا ڈائریکٹر نامزد کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی وہ تجربہ کار سفارت کار رائن کروکر کو افغانستان میں امریکہ کا سفیر نامزد کریں گے۔

ان تبدیلیوں کی طویل عرصے سے توقع کی جا رہی ہے اور ان کے نفاذ کے لیے سینیٹ کی منظوری ضروری ہے۔ موجودہ وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کی تقرری سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے کی تھی، جن کا تعلق ریپبلیکن پارٹی سے تھا۔ گیٹس سی آئی اے کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں جبکہ وہ پہلے ہی رواں برس وزارت دفاع کا قلمدان چھوڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

پینیٹا رواں برس جون میں تہتر برس کے ہوجائیں گے۔ وہ کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے سابق امریکی نمائندے ہیں اور ہاؤس بجٹ کمیٹی کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ وہ سابق صدر بل کلنٹن کے بجٹ ڈائریکٹر اور چیف آف اسٹاف بھی رہے۔

امریکی حکومت کے ایک عہدے دار نے روئٹرز کو بتایا کہ باراک اوباما رواں ہفتے پینیٹا کی نامزدگی کا اعلان کر دیں گے۔

پیٹریاس کی عمر اٹھاون برس ہے۔ وہ ایک معروف شخصیت ہیں اور انہیں عراق کو خانہ جنگی سے بچانے کے لیے سراہا جاتا ہے۔ بعد ازاں انہیں افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو فورسز کی قیادت سونپ دی گئی۔

USA Afghanistan General David Petraeus in Washington

جنرل ڈیوڈ پیٹریاس

اُدھر امریکی سینیٹروں نے صدر باراک اوباما کے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم میں تبدیلیوں کے منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ہاؤس ہوم لینڈ سکیورٹی کمیٹی کے چیئرمین پیٹر کنگ کا کہنا ہے، ’میں صدر کی مجوزہ نامزدگیوں کی بھرپور حمایت کرتا ہوں‘۔

دوسری جانب انتظامیہ اور کانگریس کو دفاعی بجٹ میں کٹوتی کے مطالبات کا سامنا بھی ہے۔ واشنگٹن حکومت پہلے ہی بجٹ خسارے پر قابو پانے میں بھی لگی ہے، جس کا حجم رواں برس ایک اعشاریہ چار ٹریلین ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس