1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

پینگوئن اشاعتی ادارے کے پچھتر سال

پینگوئن اشاعتی ادارے نے عالمی سطح پر پڑھنے والوں کے شوق کو مسلسل راحت فراہم کی ہے۔ پینگوئن کا یہ طرہٴ امتیاز رہا ہے کہ اس نے کتاب کی بڑھتی قیمتوں کے رجحان میں صارفین کو سستی کتب پیش کی ہیں۔

default

پینگوئن کی سن 1960 میں چھپی کتاب

پینگوئن کی جانب سے کم قیمت کتاب ایڈیشن کا تصور ایک ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارم پر تیار ہوا تھا۔ یہ خیال مشہور پبلشر ایلن لین کے دماغ میں اس وقت آیا جب وہ جاسوسی ناول نگار اگاتھا کرسٹی کو ملنے کے بعد بیکسٹر ریلوے سٹیشن پر کچھ پڑھنے کے متلاشی تھیں اور ان کو کچھ بھی دستیاب نہ ہوا ، سوائے رسالوں اور وکٹورین عہد کے ناولوں کے دوبارہ چھپنے والے ایڈشنوں کے۔

ایلن لین نے سوچا کہ کہ اچھی کتابیں بڑے بک سٹورز کی زینت بننے کے ساتھ ساتھ خاص طور پر ان ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارموں اور تمباکو فروشوں کی دوکانوں پر بھی دستیاب ہونی چاہیئں۔ اس سوچ کے ساتھ پہلی بار پینگوئن پبلشر کی جانب سےکسی کتاب کاکم قیمت والا ایڈیشن سن 1935میں منظر عام پر آیا۔ بس اس کے بعد مضبوط جلد والی کتابوں کے ساتھ ساتھ پیپر بیک ایڈیشن نے شہرت حاصل کرنا شروع کردی اور دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ ایک توانا اشاعتی عمل بن گیا۔

Der Große Graben

پیپر بکس کا سٹال

دراصل سن 1935میں ایلن لین کی جانب سے پینگوئن کو قائم کرنا ایک بہت بڑے اشاعتی رویے کی بنیاد تھی۔ اس کی وجہ سے اہم اور بڑے ادبی فن پاروں تک ہر ایک کی رسائی ہونے لگی۔ پینگوئن نے اپنے پیپر بیک کے سرورق کو خوبصورت ڈیزائن سے بھی سجایا۔ اس باعث بڑے ادیبوں کی کتابوں کے یہ ایڈیشن بھی خریداروں کو پسند آنے لگے۔

یہ امر اہم ہے کہ کتابوں کے پیپر بیک ایڈیشن کا آغاز پینگوئن سے نہیں ہوتا بلکہ یہ چند دہائی پہلے سے چھپنے لگے تھے۔ پینگوئن اشاعتی ادارے نے کتاب کی اشاعت کے ساتھ اس کی تقسیم میں جو ملکہ حاصل کیا وہ قابل تحسین تھا اور یہی پیپر بیک کی شہرت کا راز تھا۔ صرف پہلے سال میں ایلن لین کے قائم کردہ ادارے نے اس دور کی عالمی کساد بازاری کے ہوتے ہوئے بھی تیس لاکھ کتابیں فروخت کرکے یورپ کی معاشی اور سماجی دنیا میں انقلاب پیدا کردیا۔ 1935میں پینگوئن کی ایک کتاب پر لاگت صرف چھ پینس آئی تھی اور یہ سگریٹ کے ایک پیک کی قیمت کے برابر تھی۔

آج کتاب کی اشاعت کےعالمی منظر پر پینگوئن ایک کلاسیک کا درجہ حاصل کر گیا ہے۔ اس ادارے نے ہر زبان کے ادب کے بہترین ادبی شہ پارے انگریزی زبان میں شائع کئے ہیں۔ پینگوئن نے ارنسٹ ہیمنگوے، اگاتھا کرسٹی، ڈی ایچ لارنس سے لے کر آج کی دنیا کے نامی گرامی مصنفین کی کتابوں کو شائع کر کے امریکہ، برطانیہ اور کئی دوسرے ملکوں میں اشاعت میں مارکیٹ لیڈر کی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ پینگوئن ادارے کا خیال ہے کہ اب مستقبل کے تقاضوں کی روشنی میں الیکٹرانک بکس اہم ضرورت ہے لیکن کتاب سے قاری کا رومانس کبھی ختم نہیں ہو گا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس