1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پینٹاگون ابھی تک نائن الیون کے اثرات کی زد میں

رابرٹ ذولڈوس دائیں بائیں دیکھتے ہوئے آہستہ آہستہ چلتے ہیں اور اپنے بیٹے بوبی کا ہاتھ نہیں چھوڑتے۔ وہ فائر ڈیپارٹمنٹ کے انجینئرز کی بٹالین کے سربراہ کے طور پر کام کرتے تھے۔ وہ گزشتہ 10سال سے دوبارہ پینٹاگون نہیں گئے تھے۔

default

ذولڈوس آخری مرتبہ امریکی فوج کے اس ہیڈ کوارٹر کی عمارت میں گیارہ ستمبر سن 2001 کی صبح گئے تھے، جب نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں میناروں پر ہائی جیک کیے گئے مسافر ہوائی جہازوں کے ساتھ کیے گئے حملوں کے محض ایک گھنٹے بعد دہشت گردوں نے ایک اور اغوا شدہ مسافر طیارے کو پینٹاگون کی عمارت کے مشرقی حصے سے ٹکرا دیا تھا۔

رابرٹ ذولڈوس کو آج تک یاد ہے کہ ایک عشرہ قبل پینٹاگون پر حملے کے بعد انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ہنگامی طور پر کیا کیا کچھ کیا تھا۔ لیکن ذولڈوس کو اس وقت ایک نقشے کی ضرورت بھی پڑ گئی جب وہ کئی سال بعد ابھی حال ہی میں دوبارہ چند صحافیوں کے ساتھ ایک بار پھر پینٹاگون گئے۔

انہوں نے بتایا کہ کس طرح طیارے کے پینٹاگون کے ایسٹ ونگ کے ساتھ ٹکرانے کے بعد وہ اور ان کے ساتھی فوری طور پر موقع پر پہنچے تھے اور کس طرح وہاں ہر طرف تباہی مچی ہوئی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ حملے کے بعد پینٹاگون میں ہر طرف بد حواسی اور انتشار کا عالم تھا، ہر طرف ٹوٹے ہوئے عمارتی ڈھانچے، دھواں اور آگ کے شعلے نظر آ رہے تھے۔ ’’ایسے کہ جیسے کوئی پہچان ہی نہ سکتا ہو کہ یہ وہی پینٹاگون ہے، جہاں ہم ہر روز کام کرتے تھے اور جہاں سب کچھ بہت صاف ستھرا اور منظم ہوتا تھا۔‘‘

William Phelan Bild 2

انہوں نے اس واقعے کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اپنی خدمات انجام دی تھیں

ذولڈوس نے اس دوران پینٹاگون کی عمارت کے باہر وہ جگہ بھی دکھائی جہاں نائن الیون کے روز فائر بریگیڈ اور دیگر ہنگامی امدادی اداروں کے کارکنوں نے اپنی گاڑیاں اور ٹرک کھڑے کیے تھے۔ وہ جگہ دیکھنے میں اب ایک پارک جیسی نظر آتی ہے۔ وہاں زمین پر بجری بچھی ہے، چھوٹے چھوٹے درخت ہیں جو ابھی اتنے بڑے نہیں ہوئے کہ بہت سایہ دار ثابت ہوں۔

اسی جگہ پر ایسے بہت سے ڈھانچے بنائے گئے ہیں، جو دیکھنے میں تو بینچ نظر آتے ہیں لیکن جن میں سے ہر ایک کے نیچے سے پانی گزرتا ہے۔ ان بینچوں کی تعداد 184 ہے، اور انہیں اس طرح رکھا گیا ہے کہ دیکھنے والے کو محسوس ہو جاتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک اس شخص کی علامت ہے جو ہپیئنتاگون پر اس حملے میں مارا گیا تھا۔ ان بینچوں کا رخ بھی اس طرح متعین کیا گیا ہے کہ کوئی بھی دیکھنے والا یہ اندازہ بھی لگا سکتا ہے کہ جس شخص کا اس بینچ کے قریب ہی نام لکھا گیا ہے، وہ اس حملے میں کہاں ہلاک ہوا تھا، پینٹاگون کی عمارت کے اندر یا اس طیارے میں جو دہشت گردوں نے ایسٹ ونگ سے ٹکرا دیا تھا۔ ان 184 ہلاک شدگان میں تین سال کی ایک بچی سے لے کر 71 برس کی عمر کے امریکی بحریہ کے ایک ریٹائرڈ اہلکار تک مختلف عمروں کے لوگ شامل تھے۔

پینٹاگون پر گیارہ ستمبر 2001ء کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نہ تو اپنے پیاروں کو بھولے ہیں اور نہ ہی ان کا دکھ درد کم ہوا ہے۔ اس روز امریکہ پر دہشت گردوں نے جہاں جہاں حملے کیے، ان حملوں میں زخمی ہونے کے بعد زندہ بچ جانے والے افراد اور ہلاک شدگان کے لواحقین میں سے اکثریت ابھی تک اس کوشش میں ہے کہ ان واقعات کے اثرات سے کیسے نکلا جائے۔

پینٹاگون کے شعبہء تعلقات عامہ میں کام کرنے والی شیرل رائفِڈ کہتی ہیں کہ ابھی بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں، جو اس عمارت پر نائن الیون کے حملے کے بعد سے آج تک واپس نہیں لوٹے۔ ’’لیکن بہت سے لوگ ایک طویل عرصے سے ماضی کے ان المناک واقعات کی حقیقت سے سمجھوتہ کر چکے ہیں، وہ پہلے بھی یہاں کام کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں۔ اس لیے کہ زندگی کبھی رکتی تو نہیں۔‘‘

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: امجد علی

DW.COM