1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پینشن اصلاحات: فرانس میں مظاہرےساتویں روز بھی جاری

فرانس میں پینشن کے نظام میں اصلاحات کے متنازعہ حکومتی پروگرام کے خلاف کارکنوں کا احتجاج پیر کو اور بھی شدید ہو گیا۔ اس دوران ہڑتالی ٹرک ڈرائیوروں نے ملک کی کئی شاہراہوں کو بند کر دیا۔

default

کارکنوں کی ہڑتال کے دوران فرانس میں پیر کے روز لی گئی ایک تصویر

ان مجوزہ حکومتی اصلاحات کے خلاف فرانسیسی کارکنوں کے مظاہروں کا آج ساتواں دن ہے۔ اس دوران تیل کی صنعت میں کام کرنے والے کارکنوں اور آئل سپلائی کا کام کرنے والے ٹرک اور ٹینکر ڈرائیوروں کی ہڑتال کی وجہ سے پورے ملک میں ہزاروں پٹرول سٹیشنوں پر پٹرول ختم ہو چکا ہے۔ یوں اس ہڑتال نے اب عام شہریوں کو براہ راست متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

لیکن لاکھوں کی تعداد میں احتجاجی کارکن اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں ہیں۔ دوسری طرف ملکی وزیر اعظم فرانسوآ فِیوں نے بھی آج یہ اعلان کر دیا کہ حکومت عام شہریوں کو پٹرول کی فراہمی میں تعطل کو روکنے کے لئے ہر ممکن ذرائع استعمال میں لائے گی۔

Nicolas Sarkozy, französischer Wirtschafts- und Finanzminister

صدر سارکوزی کا ملک میں پینشن کے نظام میں اصلاحات کا پروگرام متنازعہ ہو چکا ہے

پیرس سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پیر کی صبح ملکی دارالحکومت کے مشرق میں واقع Grandpuits کے مقام پر ایک آئل ریفائنری کے سینکڑوں کارکنوں نے سڑکوں پر ٹائر جمع کر کے رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ حکومت نے اس ریفائنری کے ہڑتالی کارکنوں کو قانونی نوٹس بھی جاری کر دئے ہیں کہ وہ اپنا احتجاج ختم کرتے ہوئے واپس اپنے کام پر لوٹ جائیں۔

تاہم ان کارکنوں نے پیر کی صبح یہ اعلان کیا کہ وہ اس ریفائنری کو دوبارہ کھولنے سے متعلق قانونی نوٹس کی پرواہ نہیں کرتے اور اپنے مطالبات تسلیم کئے جانے تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ دیگر رپورٹوں کے مطابق فرانسیسی ٹرک ڈرائیوروں نے آج پیرس اور دیگر بڑے شہروں کو جانے والی شاہراہوں پر اپنا احتجاج جاری رکھا۔ اشیائے صرف اور اشیائے خوراک کی بہت سی منڈیوں اور آئل ڈپوز کو جانے والے راستے بند رکھے گئے۔ اس ہڑتال کے باعث فرانس میں تیل کی کل بارہ ریفائنریز میں سے گیارہ گزشتہ کئی دنوں سے بند ہیں۔

فرانسیسی کارکنوں کی اس ہڑتال میں گزشتہ ہفتے کئی ہائی سکولوں کے طلبا بھی شامل ہو گئے تھے۔ ان میں سے پیرس کے نواح میں واقع ایک سکول کے احتجاجی طلبا کے خلاف آج پیر کو پولیس کو آنسو گیس بھی استعمال کرنا پڑی۔

Frankreich Protest gegen Rentenreform Tankstelle

ہزاروں فرانسیسی پٹرول سٹیشنوں پر پٹرول ختم ہو چکا ہے

صدر نکولا سارکوزی کی حکومت نے ملک میں پینشن کے نظام میں اصلاحات کا جو متنازعہ پروگرام تیار کیا ہے، اس کے تحت عام کارکنوں کے لئے ریٹائرمنٹ کی عمر آئندہ 60 برس سے بڑھا کر 62 برس کر دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ریٹائرڈ کارکنوں کو پینشن کی رقوم کی ادائیگی کا سلسلہ بھی اب تک کے طریقہء کار کے مقابلے میں چند برس کی تاخیر سے شروع ہوا کرے گا۔

پیرس میں قومی اسمبلی یا پارلیمانی ایوان زیریں کی طرف سے اس مسودہء قانون کی پہلے ہی منظوری دی جا چکی ہے۔ سینیٹ کہلانے والے ایوان بالا میں اس قانون کی منظوری اسی ہفتے متوقع ہے۔ تاہم فرانسیسی کارکنوں کی تنظیموں کے ملکی اتحاد نے پیر کو یہ اعلان بھی کیا کہ کارکنوں کا ان اصلاحات کے خلاف احتجاج متنازعہ مسودہء قانون کی سینیٹ میں منظوری کے بعد بھی جاری رہے گا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس