1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پینسٹھ کی جنگ کے پچاس سال اور آج کی صورت حال

پاکستان اور بھارت کے مابین 1965ء میں لڑی گئی جنگ کو پچاس سال ہو گئے ہیں لیکن دونوں ہمسایہ ممالک مسئلہ کشمیر پر بدستور کشیدگی کا شکار نظر آتے ہیں۔

اپنے طور پر 1965ء کی جنگ کو جیتنے کا دعویٰ کرنے والا ملک بھارت اس عسکری مہم کے پچاس برس مکمل ہونے پر شاندار تقریبات کا اہتمام کر رہا ہے۔ آج جمعہ ستائیس اگست کو شروع ہونے والی ان تقریبات کا اختتام بائیس ستمبر کو ہو گا۔ اس دوران بھارتی حکومت اپنے ’جنگی ہیروز‘ کو خراج عقیدت پیش کرے گی اور مختلف پروگراموں کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔ نئی دہلی میں ’جیت کی تقریبات‘ میں فوجی پریڈ بھی ہو گی جبکہ موسیقی اور رقص کی محفلیں بھی سجیں گی۔

پینسٹھ کی جنگ کو عموماﹰ ایک ’بھولی بسری عسکری مہم‘ کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے کیونکہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا۔ اگرچہ متعدد غیرجانبدار مبصرین کے نزدیک یہ جنگ برابری پر ختم ہوئی تھی لیکن پاکستان اور بھارت دونوں ہی اپنی اپنی کامیابیوں کے دعوے کرتے ہیں۔ پاکستان کے مطابق اس کی فوج نے بھارتی حملے کو ناکام بنا دیا تھا۔ پاکستان میں چھ ستمبر کو ’دفاع پاکستان‘ کا دن منایا جاتا ہے، جس میں جیت کی خوشی میں خصوصی پریڈز اور مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

بھارتی مصنف نتین گوکھلے نے ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے اس جنگ کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’یہ کوئی بہت بڑی کامیابی نہیں تھی تاہم مجموعی طور پر بھارت کی پوزیشن مضبوط تھی۔ کئی غیرجانبدار مبصرین کے مطابق بھی بھارت کا پلڑا بھاری رہا تھا۔‘‘ گوکھلے نے ابھی حال ہی میں اس جنگ پر ایک کتاب بھی لکھی ہے۔

’ساؤتھ ایشین تجزیاتی گروپ‘ سے منسلک سبھاش کاپیلا نے انیس سو پینسٹھ کی اسی جنگ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’جارحیت کرنے والا پاکستان اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام ہو گیا تھا۔ اس نے کشمیر میں انقلاب بپا کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ اس نے کشمیر کو طاقت کے بل پر حاصل کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وہ ناکام رہا۔ بھارت نے پاکستان کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔‘‘

Händeschütteln zwischen Manmohan Singh und Syed Yousuf Raza Gilani

کشیدگی کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے مذاکرات بھی اثر انداز ہو رہے ہیں

اسلام آباد حکومت ایسے الزامات مسترد کرتی ہے کہ اس نے کشمیر میں اسلام پسند جنگجوؤں کی کبھی حمایت کی تھی یا کی ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ اس تنازعے کو بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں لے جائے تاکہ اس معاملے کے حل کے لیے عالمی فریقوں کی توجہ حاصل کی جا سکے۔ تاہم بھارت نے ایسی تمام کوششوں کو یہ کہتے ہوئے سبوتاژ کر دیا ہے کہ پاکستان بھارت میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔

حالیہ کچھ عرصے کے دوران دونوں ہمسایہ ممالک نے کشمیر کے تنازعے پر اپنے اپنے موقف کو سخت کر لیا ہے، جس کہ وجہ سے ان ممالک کے باہمی تعلقات میں مزید سرد مہری دیکھی جا رہی ہے۔ اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز سے وابستہ خالد رحمان نے ایک ہفتہ وار جریدے میں لکھا ہے کہ دونوں ممالک کے جوہری طاقت بن جانے کی وجہ سے اب مزید کسی جنگ کا خطرہ نہیں ہے، ’’یہ ایک واضح بات ہے کہ کشمیر کا تنازعہ دونوں ممالک کے مابین ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اگر یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا تو ہم کس طرح توقع کر سکتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر آ جائیں۔‘‘