1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پیمرا کا نوٹس :احمدیوں کے خلاف نفرت آمیز ٹی وی پروگرام

پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا نے دو پاکستانی چینلز کے خلاف احمدی کمیونٹی کے خلاف مواد نشر کرنے کی شکایات کا نوٹس لے لیا ہے۔

پیمرا کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں ’انجمن احمدیہ پاکستان‘ کے صدر اور پاکستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد کی جانب سے نیو ٹی وی پر پروگرام ’حرف راز‘ اور چینل 92 کے پروگرام ’صبح نور‘ کے خلاف شکایات موصول ہوئی ہیں۔

پیمرا کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق،’’پیمرا کو موصول ہونے والی زیادہ تر شکایات میں کہا گیا کہ ان ٹی وی پروگراموں پر احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف مواد نشر کیا جا رہا ہے جبکہ یہ افراد پہلے سے ہی خوف و ہراس کا شکار ہیں اور ماضی میں ان پر دہشت گردانہ حملے بھی ہوئے ہیں۔‘‘ شکایات کنندگان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے پروگرام قومی مفاد کے خلاف ہیں اور نہ صرف ایک اقلیتی گروہ کے خلاف تشدد پر اکساتے ہیں بلکہ نیشنل ایکشن پلان اور پیمرا قوانین کی بھی نفی کرتے ہیں۔

پاکستانی نیوز چینل جیو سے منسلک صحافی اعزاز سید نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،’’پاکستان کا مین اسٹریم میڈیا بدقسمتی سے اقلیتوں کے حوالے سے ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے کہ پیمرا نے شکایات کی بنیاد پر اب نوٹس لیا ہے لیکن پیمرا کو شکایات سے قبل ہی ان پروگراموں پر نشر ہونے والے مواد کا نوٹس لے لینا چاہیے تھا۔‘‘

اعزاز نے کہا:’’پاکستان میں باقی اقلیتوں کی نسبت احمدی سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں اور اس کا ایک خاص پس منظر ہے، اس ملک میں ان کے خلاف ایک خاص تحریک چلی تھی، یہاں تک کہ ان کے حوالے سے پاکستان کے آئین میں بھی ترمیم کی گئی تھی۔‘‘

اے آر وائی نیوز کے سینیئر وائس پریذیڈنٹ عماد یوسف نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا:’’پاکستان جیسے ملک، جہاں مذہب ایک انتہائی حساس معاملہ ہے، وہاں میڈیا کو بہت ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا چاہیے، خصوصی طور پر مذہبی پروگراموں کے سلسلے میں باقاعدہ تحقیق کرنی چاہیے، جو کہ کافی چینلز نہیں کر رہے۔‘‘

پاکستان میں میڈیا کے حقوق کے لیے سرگرم ادارے ’میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی‘ کے شریک بانی اسد بیگ نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا:’’جب کبھی احمدی کمیونٹی کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو مذہبی گروہ اس کو سراہتے ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ عام پاکستانی عوام بھی ایسے ہی جذبات رکھتے ہیں، جو کہ غلط ہے۔‘‘

Ahmadiyya Minderheit in Pakistan

’’پاکستان میں باقی اقلیتوں کی نسبت احمدی سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں

اعزاز اس حوالے سے کہتے ہیں:’’ماضی میں بڑے نیوز چینلز کے پروگراموں میں ایسے مہمان بلائے گئے، جنہوں نے نہ صرف احمدیوں کے خلاف بلکہ فرقہ وارانہ گفتگو کی۔ یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے اور اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔‘‘

اسد بیگ کے مطابق حال ہی میں ایک پاکستانی چینل پر میزبان حمزہ علی عباسی نے پاکستان میں احمدیوں کے ساتھ رویے کے حوالے سے صرف ایک ڈائیلاگ کرانا چاہا تھا لیکن پیمرا کو حمزہ علی عباسی پر پابندی عائد کرنا پڑی تھی:’’اس لحاظ سے پیمرا کی جانب سے اب یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ اس حوالے سے پیمرا کیا فیصلہ کرتا ہے۔‘‘

پیمرا نے اس کیس میں ملنے والی شکایات لاہور میں ’کونسل آف کمپلینٹس‘ کو بھیج دی ہیں۔ پیمرا نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی فیصلہ سنانے سے قبل ان چینلز اور شکایات کندگان کا موقف سنا جائے گا۔

DW.COM