1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’پیمرا ملازمین خطرے میں‘

پیمرا کے چیئرمین ابصار عالم نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ان کے ادارے کے ملازمین کو دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم ، چیف جسٹس اور آرمی چیف سے مدد کی اپیل کی۔

پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے چیئرمین ابصار عالم نے پریس کانفرنس کے دوران دھمکی آمیز پیغام کی آڈیو بھی سنائی۔ اس فون کال میں مبینہ بلیک میلر سوال پوچھ رہا ہے کہ انہوں نے ایک پاکستانی نجی چینل کو کیوں بند کیا۔ پریس کانفرنس کے دوران ابصار عالم نے کہا کہ اب پیمرا کے لیے کام کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کچھ میڈیا اینکرز اور ٹی وی پروگراموں میں اظہار رائے کرنے والے مہمانوں  کی جانب سے نفرت آمیز گفتگو کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

ابصار عالم کی پریس کانفرنس کے بعد پاکستان میں ہیش ٹیگ ’پیمرا‘ ٹرینڈ کر رہا ہے۔ کئی صحافیوں نے بھی ابصار عالم کے حق میں آواز بلند کی ہے جب کہ کچھ کی رائے میں پیمرا کے چیئرمین کو یہ پریس کانفرنس نہیں کرنا چاہیے تھی۔

 پاکستانی صحافی خالد جمیل نے اس معاملے کے حوالے سے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا، ’’ابصار عالم کی ذات یا پیمرا سے کسی کو لاکھ اختلافات ہوسکتے ہیں، ہونے بھی چاہییں، مگر ان اختلافات کا اظہار تہذیب کے دائرہ میں ہی نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے۔ اختلاف کرنے والے ان اداروں اور افراد کو، جو خود آزادی اظہار اور اعلیٰ صحافتی اقدار کا دعویٰ کرتے ہیں، یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ قومی اداروں کے سربراہوں یا اہلکاروں کو دھمکیاں دیں۔ الفاظ کی مدد سے حقوق کی جنگ لڑنے کے دعویداروں کو گولی یا گالی کی زبان میں بات کرنے سے قبل قلم اور کیمرہ ترک کردینا چاہیے۔‘‘

حال ہی میں پیمرا کی جانب سے پابندی کی زد میں آنے والے چینل ’بول‘ سے منسلک صحافی ضیاء رحمان نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا، ’’پیمرا پاکستان مسلم لیگ نون کے اتحادی میڈیا چینلز کے مفادات کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہ خود مختار ادارہ نہیں ہے اور جھوٹ کے ذریعے اختلاف رائے رکھنے والی آوازوں کو دبا رہا ہے۔‘‘

آگاہی ایوارڈز سے منسلک کارکن عامر جہانگیر نے بھی ابصار عالم کی پریس کانفرنس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’ایسا ادارہ جو اپنی کمزوریوں اور خوف کا پرچار کرے، وہ اپنی عزت اور افادیت کھو دیتا ہے۔ پیمرا کے چیئرمین کو استعفیٰ دے کر گھر چلے جانا چاہیے۔‘‘

پاکستان میں میڈیا حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی‘ کے شریک بانی اسد بیگ نے اس حوالے سے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا، ’’اس بات سے بہت مایوسی ہوئی ہے کہ میڈیا ریگولیٹر کو بھی خطرہ ہے۔‘‘

DW.COM