1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

پیغمبر اسلام پر ایرانی فلم ، کیا مطلوبہ اہداف حاصل ہو سکیں گے؟

ایرانی فلم ’محمد‘ کی تخلیق کا مقصد اسلام کے مثبت پہلوؤں کو سامنے لانا اور مذہب کی انتہا پسندانہ تشریحات کے مقابلے میں ایک نیا بیانیہ سامنے لانا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف فلمیں اس تناظر میں کوئی اہم کردار کر سکتی ہیں۔

پیغمبر اسلام کی زندگی پر بنائی گئی ایرانی فلم ’محمد‘ نامی فلم کے ہدایتکار مجید مجیدی کا کہنا ہے کہ پیغبر اسلام کی زندگی کے بارے میں زیادہ فلمیں بنائی جانا چاہییں۔ اس ایرانی ڈائریکٹر کے بقول، ’’میں نے یہ فلم بنانے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ میں مغرب میں اسلامو فوبیا کی نئی لہر کے خلاف لڑنا چاہتا ہوں۔ مغرب میں اسلام کی تشریحات تشدد اور دہشت گردی پر مبنی ہیں۔‘‘

طالبان، ’اسلامک اسٹیٹ‘ (داعش)، القاعدہ اور دیگر اسلام پسند شدت پسند گروہوں کی وجہ سے مغربی ممالک میں اسلام کو پرتشدد مذہب تصور کیا جانے لگا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں لوگ عمومی طور پر اسلام کے بارے میں کوئی زیادہ معلومات نہیں رکھتے بلکہ زیادہ تر کیسوں میں میڈیا پر نشر ہونے والی خبریں اور مضامین ہی رائے عامہ کا باعث بنتے ہیں۔

اس فلم کے تناظر میں کچھ ناقدین نے مجید مجیدی کی کوشش کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجیدی فن کا سہارا لیتے ہوئے پیغمبر اسلام اور اسلام سے منسلک پرتشدد نظریات کے مقابلے میں ایک نیا اور مثبت بیانیہ متعارف کرانا چاہتے ہیں۔ تاہم ایک مسئلہ یہ ہے کہ بالخصوص سنی مسلمانوں کے نزدیک پیغمبر اسلام اور متعدد مذہبی شخصیات کی عکاسی نہیں کی جا سکتی ہے۔

متعدد حلقوں کی طرف سے تنقید

اس حوالے سے مختلف ممالک کے علماء متعدد فتوے بھی جاری کر چکے ہیں۔ مصر کی معروف جامعہ الازہر نے مجیدی کی اس نئی فلم پر شدید تنقید کی ہے۔ اس یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر عبدالفتاح الواری نے روئٹرز کو بتایا، ’’یہ مسئلہ پہلے ہی حل ہو چکا ہے۔ شریعت پیغبروں کی تصویری عکاسی سے منع کرتی ہے۔‘‘

Film - Muhammad

ایران میں اس فلم کو پذیرائی حاصل ہو رہی ہے

اس فلم کو مغرب میں کس قدر پذیرائی ملتی ہے اور یہ کہ مغربی ممالک میں اسلام سے منسلک انتہا پسندانہ نظریات کس حد تک بدلتے ہیں، اس کے لیے ابھی انتظار کرنا ہو گا۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ یہ فلم دائرہ اسلام کے اندر بھی منطق اور عقلیت پسندی کی کشمکش کی صورتحال لیے ہوئے ہے۔ ’محمد‘ نامی فلم میں چودہ سو سال پہلے کی عرب سرزمین دکھائی گئی ہے۔ اس فلم میں پیغمبر اسلام کی ولادت سے قبل کے حالات سے لے کر ان کی زندگی کے لڑکپن تک کے دور کی عکاسی کی گئی ہے۔ تاہم ان کا چہرہ نہیں دکھایا گیا ہے۔

شیعہ مسلمان سنی مسلمانوں کے مقابلے میں پیغمبر اسلام کی ذات، ان کی شبیہ اور اسلامی تاریخ کی دیگر اہم مذہبی شخصیات کی عکاسی کے حوالے سے قدرے اعتدال پسندانہ رویہ رکھتے ہیں۔ اس نئی فلم میں جس طرح مجیدی نے پیغمبر اسلام کی عکاسی کی ہے، اُسے ایک انتہائی دلیرانہ قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

’مذہب حساس معاملہ ہے‘

کیمبرج یونیورسٹی میں مذہبی تاریخ کے اسکالر ڈیوَین رائن مینزز نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی فلموں کی طرف مذہبی لوگوں کا ردعمل ان کے انتقامی جارحانہ رویے کی بجائے دراصل ان کی مذہبی پختگی کا عکاس ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہتر لائحہ عمل یہ ہو گا کہ مذاہب کی تعلیمات پر درست روشنی ڈالنے کے لیے مختلف کوششوں کی سرپرستی کی جائے تاکہ اس سے مذاہب کے مابین ہم آہنگی بھی پیدا ہو سکے۔

ایرانی شاعر اور اسکالر افتخار علی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اسلام اور مسیحیت کے علاوہ متعدد مذاہب کے ماننے والے اپنے مذہب کے بارے میں بہت حساس ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ردعمل صرف مسلمانوں کا ہی نہیں ہوتا بلکہ جب مارٹین سکورسیسی نے ’لاسٹ ٹمپٹیشن آف کرائسٹ‘ نامی فلم بنائی تھی تو بہت سے انتہا پسند مسیحیوں نے بھی احتجاج کیا تھا۔

Film - Muhammad

پیغبر اسلام کی زندگی کے بارے میں زیادہ فلمیں بنائی جانا چاہییں، مجید مجیدی

’محمد‘ نامی اس فلم پر تبصرے اپنی جگہ، لیکن سوال وہی ہے کہ کیا اس طرح کی فلمیں بالخصوص مغرب میں پیغمبر اسلام اور اسلام سے جڑے نظریات کو بدلنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں؟ جب تک اسلام کے نام پر جہادیوں کی طرف سے سر قلم کرنے کے واقعات رپورٹ ہوتے رہیں گے، مسلم اور مغربی ممالک میں ’جہاد‘ کے نام خود کش حملے اور پرتشدد کارروائیاں ہوتی رہی گی، ایک یا دو فلمیں اسلام سے جڑے پرتشدد نظریات کو شائد ختم نہیں کر سکیں گی۔ اس مقصد کے لیے مسلم ممالک کی موجودہ سیاسی اور معاشرتی حقیقتوں کا بدلنا، شائد زیادہ فائدہ مند ہو گا۔