1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’پیسے یورپ کے لیے دیے تھے لیکن ایجنٹ کراچی چھوڑ گیا‘

پہلے لوگوں کو بلوچستان لے جایا جاتا ہے اور پھر وہاں سے ترکی، ایران اور یونان، جو یورپی یونین کا رکن ملک ہے۔ اس طرح بے شمار افراد جعلسازوں کے ہتھے بھی چڑھ جاتے ہیں اور اپنی عمر بھر کی جمع پونجی لٹا بیٹھتے ہیں۔

Asia Bibi

غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کی ناکام کوشش کرنے والے فیصل آباد کے ایک رہائشی محبوب علی کی بیوی آسیہ بی بی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اپنا آبائی مکان بیچ کر پندرہ ہزار ڈالر ایک ایجنٹ کو دیے تھے لیکن وہ اسے ہوائی جہاز کے ذریعے کراچی پہنچا کر غائب ہو گیا

آج ہفتہ تیس جولائی کو انسانوں کی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ انسانی اسمگلنگ سے مراد منافع کی غرض سے انسانوں کی غیر قانونی تجارت یا انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا لی جاتی ہے اور پاکستان سے جو لوگ منظم جرائم پیشہ گروہوں کے ذریعے بیرون ملک اسمگل کیے جاتے ہیں، ان کا مقصد زیادہ تر اپنے لیے روزگار کے بہتر مواقع ہوتے ہیں۔

پاکستان کی افغانستان اور ایران کے ساتھ انتہائی طویل سرحدیں موجود ہیں جو اسمگلروں کے لیے بہت مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ موجودہ حالات میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے راستے غیر قانونی سرحدی راہداریاں اور سمندری راستے ہیں۔

آج تیس جون کو منائے جانے والے ہیومن ٹریفکنگ کے خلاف اقوام متحدہ کے عالمی دن کا مقصد دنیا بھر میں انسانوں کی اسمگلنگ کے خلاف آواز بلند کرنا اور شعور کی بیداری ہے۔

Qazi Muhammad Anwar

انور قاضی نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسانوں کی اسمگلنگ انتہائی خوفناک جرم ہے اور پاکستان میں اس کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے

اس بارے میں اسلام آباد میں قائد اعظم یونیورسٹی سے منسلک ماہر اقتصادیات ڈاکٹر انور شاہ نے ڈوئچے ویلے کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی باشندے بیرون ملک اسمگل کیے جانے کی خواہش زیادہ تر اس لیے رکھتے ہیں کیونکہ وہ اصل حقائق سے لاعلم ہوتے ہیں۔ اپنی سادگی اور لاعلمی کے باعث ایسے اکثر پاکستانی جرائم پیشہ گروپوں اور ایجنٹوں کے ذریعے بیرون ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ زمینی حقائق سے عدم واقفیت کے باعث وہ اسمگلروں کی طرف سے دکھائے جانے والے سبز باغوں پر یقین کر لیتے ہیں اور اپنی اسی خواہش کی تکمیل کے دوران پیش آنے والے ممکنہ جان لیوا خطرات کو قبول کرنے پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔

انور شاہ نے بتایا کہ یہ اسمگلر عام طور پر اپنے گاہکوں کو امریکا، برطانیہ اور یورپی ملکوں میں پہنچا دینے کے خواب دکھا کر ان سے بڑی بڑی رقوم بٹورتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ایک دوسری بات یہ بھی ہے کہ اسمگل ہو کر بیرون ملک پہنچ جانے والے کئی افراد بھی ایسے سادہ لوگوں کو اکثر یہ کہہ کر بہکاتے ہیں کہ شروع شروع میں تو بہت مشکل ہوتی ہے لیکن پھر سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ ان سے یہاں تک کہا جاتا ہے کہ بیرون ملک آ کر ہر ماہ اتنی بڑی رقم کما لو گے، جتنی پاکستان میں کسی بھی طور ممکن نہیں ہے۔‘‘

پاکستان میں انسانوں کے اسمگلروں کی سزا کیا ہے؟ یہ جاننے کے لیے ڈی ڈبلیو نے رابطہ کیا پاکستان کی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور سینیئر ماہر قانون انور قاضی سے۔ انور قاضی نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسانوں کی اسمگلنگ انتہائی خوفناک جرم ہے اور پاکستان میں اس کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ اتنا گھناؤنا اور سنگین جرم ہے کہ اس کی سزا ان کی رائے میں سزائے موت ہونا چاہیے۔

انور قاضی نے مزید کہا کہ اسمگلنگ ایک جرم ہے، چاہے وہ منشیات کی ہو یا دیگر اشیاء کی۔ لیکن انسانی اسمگلنگ اتنا گھناؤنا فعل ہے کہ جب وہ پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر تھے، تو اس بارے میں بہت بحث ہوئی تھی، ’’لیکن پھر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شور مچا دیا کہ پھانسی نہیں، بس عمر قید ہی کافی سزا ہے۔‘‘

Griechenland Flüchtlinge von Afghanistan und Pakistan

پانچ یا چھ ہزاز ڈالر فی کس کے حساب سے پہلے لوگوں کو بلوچستان لے جایا جاتا ہے، اور پھر وہاں سے ترکی، ایران اور یونان، جو یورپی یونین کا رکن ملک ہے

جرائم اور انسانی اسمگلنگ سے متعلقہ امور پر نظر رکھنے والے پنجاب پولیس کے ایک سینیئر افسر احسان صادق نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ تازہ ترین ٹھوس اعداد و شمار تو ان کے علم میں نہیں، لیکن پاکستان کی طرف ہیومن ٹریفکنگ میں کمی ہوئی ہے اور پاکستان سے انسانوں کی اسمگلنگ بھی کم ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجوہات میں سرفہرست ایف آئی اے کی بہترکارکردگی ہے۔ پھر پولیس نے بھی کئی ایسے گروہ پکڑے ہیں جو عورتوں اور بچوں کو اغوا کر کے دبئی بھیجنے میں ملوث تھے۔ اس کے علاوہ کئی دیگر حکومتی اقدامات کا بھی اس میں کافی عمل دخل ہے۔

احسان صادق نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اب امیگریشن نظام پہلے سے کہیں بہتر ہو گیا ہے۔ پہلے جعلی پاسپورٹوں پر سب سے زیادہ افراد بیرون ملک اسمگل کیے جاتے تھے۔ لیکن اب مسافروں کی جانچ پڑتال کے لیے جدید کمپیوٹرائزڈ مشینری کی وجہ سے ایسا تقریباﹰ ناممکن ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں زمینی اور سمندری راستوں سے انسانی اسمگلنگ کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے باعث بھی حفاظتی اقدامات بہتر بنا دیے گئے ہیں۔ ان سب عوامل کے نتیجے میں ہیومن ٹریفکنگ میں واضح کمی ہوئی ہے۔‘‘

غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کی ناکام کوشش کرنے والے فیصل آباد کے ایک رہائشی محبوب علی کی بیوی آسیہ بی بی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اپنا آبائی مکان بیچ کر پندرہ ہزار ڈالر ایک ایجنٹ کو دیے تھے لیکن وہ اسے ہوائی جہاز کے ذریعے کراچی پہنچا کر غائب ہو گیا، ’’میرا شوہر دھکے کھاتا بڑی مشکل سے واپس گھر پہنچا تھا۔ اب ہم اسلام آباد کی ایک کچی بستی میں کرائے کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہتے ہیں۔ میں گھروں میں کام کرتی ہوں اور میرا شوہر محنت مزدوری کرتا ہے، پھر کہیں جا کر ہمارا گزارہ ہوتا ہے۔‘‘

ماہرین کے مطابق پاکستان سے دو طریقوں سے انسانی اسمگلنگ کی جا رہی ہے، زمینی راستے سے یا پھر فضائی راستے سے۔ پانچ یا چھ ہزاز ڈالر فی کس کے حساب سے پہلے لوگوں کو بلوچستان لے جایا جاتا ہے، اور پھر وہاں سے ترکی، ایران اور یونان، جو یورپی یونین کا رکن ملک ہے۔ لیکن اتنی بڑی رقم کے باوجود اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی کہ ’مسافر اپنی منزل پر پہنچ بھی جائے گا‘۔اس طرح بے شمار افراد جعلسازوں کے ہتھے بھی چڑھ جاتے ہیں اور اپنی عمر بھر کی جمع پونجی لٹا بیٹھتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم (یو این او ڈی سی) کے مطابق 2013 میں پاکستان میں سرگرم جرائم پیشہ گروہوں نے انسانی اسمگلنگ کے ذریعے 927 ملین ڈالر کمائے تھے۔

پاکستان میں ہیومن ٹریفکنگ کا سرکاری ڈیٹا ایف آئی اے رکھتا ہے۔ اس سرکاری ادارے کی ایک ریڈ بک کے مطابق پاکستان میں 2014 میں 141 گینگ موجود تھے، جن میں سے اکثریت گجرات اور گجرانوالا سے تعلق رکھتی تھی۔ تب ایسے مجرموں کے دیگر منظم گروہوں میں سے بہت سے سیالکوٹ، راولپنڈی، منڈی بہاؤالدین اور آزاد کشمیر میں فعال تھے۔

انہی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مجرموں کے ان 141 گروہوں میں قریب 7800 افراد شامل ہیں، جنہوں نے 8500 پاکستانیوں کو پچھلے سال مشرق وسطیٰ، یورپ اور افریقی ممالک میں اسمگل کیا۔ ایف آئی اے کے مطابق پچھلے پانچ برسوں میں پاکستان کی ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدوں سے 61 ہزار سے زائد ایسے افراد کو پکڑ لیا گیا، جنہیں مجرموں کے گروہ بیرون ملک اسمگل کر رہے تھے۔ پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کے عام راستوں کے طور پر چمن، گلستان، نوشکی، چاغی، پنچگور اور تربت جیسے علاقوں کے نام لیے جاتے ہیں۔