1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پیروکے جنگجو اور زبردستی بچوں کی فوجی تربیت

جنوبی امریکی ملک پیرو کے بائیں بازو کے جنگجو گوریلوں نے حکومت مخالف سرگرمیوں کو ایک بار پھر شروع کرنے کے حوالے سے اب بچوں کو بھرتی کر کے انہیں مسلح سرگرمیوں کی تربیت دینا شروع کردی ہے۔

default

شائی ننگ پاتھ نے اپنے حلقوں میں کم سن بچوں کو زبردستی بھرتی کرنے کا عمل شروع کردیا ہے

پیرو کے فوجی افسر جنرل لیونل کابریرا نے دارالحکومت لیما میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ جنوب میں واقع Apurimac وادی میں سرگرم بائیں بازو کی تنظیم شائی ننگ پاتھ نے اپنے حلقوں میں کم سن بچوں کو زبردستی بھرتی کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ جنرل کابریرا کے مطابق بائیں بازو کی انتہاپسند تنظیم ان تربیت یافتہ بچوں کو بعد میں مسلح سرگرمیوں کے ساتھ منشیات کے کاروبار میں استعمال کرنے کی پلاننگ رکھتی ہے۔

اس پریس بریفنگ میں سرکاری فوج کے اعلیٰ افسر کا مزید کہنا تھا کہ شائی ننگ پاتھ کی دسترس سے ایک بچے کو بازیاب کرنے کے بعد ہی تمام صورت حال سے آ گاہی حاصل ہوئی ہے۔ جنرل کابریرا پیرو کے شورش زدہ علاقے Apurimac میں جاری حکومتی فوجی کارروائی کے انچارج ہیں۔ انہوں نے بازیاب ہونے والے بچے کا نام Alcides بتایا ہے۔ جنرل کا مزید کہنا ہے کہ بچوں کی زبردستی ریکروٹمنٹ کی پالیسی کا روح رواں شائی ننگ پاتھ تنظیم کا ایک سابقہ جنگجو وکٹر کوئسپے پالومینو (Victor Quispe Palomino) ہے۔ پالومینو کے دو بھائی بھی اس تنظیم میں شامل ہیں۔ جنرل کے مطابق بنیادی طور پر یہ تنیوں بھائی منشیات کے کاروبار کے فعال کردار ہیں اور وہ بائیں بازو کو بطور چھتری استعمال کر رہے ہیں۔ پیرو میں انسانی حقوق کی سرگرم تنظیمیں بچوں کی زبردستی فوجی تربیت کا شور گزشتہ سال اگست سے ہی مچا رہی ہیں۔

پیرو میں بائیں بازو کی مسلح تنظیم کی حکومت مخالف سرگرمیوں میں ستر ہزار انسان ہلاک ہو چکے ہیں۔ بیشتر ہلاکتیں سن 1980 سے لے کر 2000 کے درمیان ہوئیں تھیں، جب مطلق العنان صدر البرٹوفیوجیموری کے دور میں اس تنظیم کو زبردست حکومتی ایکشن کا سامنا تھا۔ اس دوران شائی ننگ پاتھ کا تقریباً خاتمہ ہوگیا تھا۔ حکومت کے مطابق اب اس گروپ کے بچے کچے افراد دوبارہ منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہو کر اسلحے کو ذخیرہ کرنے میں مصروف ہیں۔

شائی ننگ پاتھ دراصل پیرو کی کمیونسٹ پارٹی کا مسلح ونگ ہے۔ یہ جماعت خود کوماؤنواز خیال کرتی ہے۔ بہت سال قبل یہ جماعت پیرو میں اشرافیہ اور آمریت کے خلاف ایک ثقافتی انقلاب کا خواب دیکھتی تھی، جو بعد میں مسلح تحریک میں تبدیل ہوگیا۔ اس کے نتیجے میں عام انسانوں کو بے رحمی سے ہلاک بھی کیا گیا۔ یہ جماعت نیپال کی کمیونسٹ پارٹی ماؤنواز کے علاوہ دوسری ایسی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ہم آہنگ اور رابطے رکھتی تھی۔

یہ تنظیم امریکہ سمیت یورپی یونین اور کینیڈا میں اپنی بربریت کے تناظر میں ایک دہشت گرد گروہ قرار دی جا چکی ہے۔ پیرو کے اندر بھی قانونی طور پر اس کو ایک دہشت پسندانہ گروپ سمجھاجاتا ہے۔ اس دہشت پسند تنظیم کا لیڈر Abimael Guzman سن 1992 میں گرفتار کیا گیا تھا اور ایک فوجی عدالت نے اسے سن 2006 میں عمر قید کا مستحق قرار دیا گیا۔ سردست یہ گروپ اتنا فعال اور متحرک نہیں ہے لیکن اس کی بڑھتی سرگرمیوں پر حکومتی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس