1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پیرس یورو کپ 2016ء کے لیے ہر طرح سے تیار

یورپی فٹ بال کپ کے مقابلوں کو دیکھنے کے لیے لاکھوں شائقین فرانس پہنچ رہے ہیں۔ یورو کپ سے پہلے 80 ہزار سے زائد افراد آئفل ٹاور کے قریب منعقدہ ایک کنسرٹ میں شریک ہوئے۔ منتظمین ہڑتالوں اور سکیورٹی کے حوالے سے فکر مند ہیں۔

آئفل ٹاور کے سائے میں جمعرات کو منعقد ہونے والے کنسرٹ کے سٹار ممتاز فرانسیسی ڈِسک جَوکی ڈیوڈ گَیٹے رہے، جو جمعہ دس جون کو یورو کپ کی افتتاحی تقریب میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرنے والے ہیں۔

Frankreich Paris Eiffelturm bei Nacht

جمعرات کو رنگا رنگ روشنیوں سے سجا آئفل ٹاور

گَیٹے نے آئفل ٹاور کے نیچے بنائے گئے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اسی جگہ یورو کپ کے شائقین کے لیے مخصوص اُس علاقے کا افتتاح عمل میں لایا گیا ہے، جو ایک مہینے تک جاری رہنے والے یورو کپ مقابلوں کے دوران شائقین کی توجہ کا مرکز و محور بنا رہے گا۔

اس مخصوص علاقے میں بانوے ہزار افراد کی گنجائش رکھی گئی ہے اور یہاں شائقین کھلے آسمان کے نیچے چار سو بیس مربع میٹر سائز کی ایک اسکرین پر یورو کپ کے میچوں سے محظوظ ہو سکیں گے۔ دس جون جمعے کی شام لوگ یہاں افتتاحی میچ دیکھ سکیں گے، جو میزبان فرانس اور رومانیہ کی ٹیموں کے مابین کھیلا جا ئےگا۔ ان یورپی فٹ بال مقابلوں کے دوران سخت ترین حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور یہاں پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ ساتھ پرائیوٹ گارڈز بھی موجود ہوں گے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ یورو کپ کے دوران بیرونی دنیا سے بھی دو ملین شائقین فرانس پہنچیں گے۔ ایسے میں ہوائی اڈوں اور فرانس بھر میں یورو کپ کے لیے مخصوص اسٹیڈیمز کی حفاظت کے لیے تمام تر ممکنہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ گزشتہ سال نومبر میں پیرس میں 130 افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد سے فرانس میں ہنگامی حالت نافذ ہے۔

تب دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے اس اسٹڈیم کو بھی اپنا نشانہ بنایا تھا، جس میں اس کپ کا افتتاحی میچ کھیلا جانے والا ہے۔ رواں ہفتے کے آغاز پر یوکرائن میں ایک شخص اسلحے اور گولہ بارود سمیت پکڑا گیا تھا، جو یوکرائنی حکام کے مطابق یورو کپ کے دوران حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

Frankreich Paris Blick vom Eiffelturm auf Fanmeile

آئفل ٹاور سے نیچے فٹ بال شائقین کے لیے مخصوص زون کا منظر، جہاں 92 ہزار افراد کی گنجائش ہے اور میچ دیکھنےکے لیے 420 مربع میٹر سائز کی ایک اسکرین نصب کی گئی ہے

سکیورٹی کے ساتھ ساتھ منتظمین کو اور بھی کئی پریشانیاں ہیں۔ لیبر سے متعلق قوانین پر فرانس میں ملک گیر ہڑتالیں بدستور جاری ہیں۔ پیرس اور مارسے میں کُوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے کا نظام مفلوج ہونے سے ہر طرف تعفن پھیل رہا ہے۔ ریلوے ورکرز کی ہڑتال بھی اپنے دوسرے ہفتے میں ہے جبکہ ہفتہ گیارہ جون سے ملکی فضائی کمپنی ایئر فرانس کے پائلٹوں نے بھی چار روزہ ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت ضرورت پڑنے پر ہنگامی قوانین کا سہارا لے کر ریلوے ورکرز کو کام پر آنے کے لیے مجبور کرنے کے بارے میں بھی سوچ رہی ہے۔

DW.COM