1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پیرس کے ایک اپارٹمنٹ میں آتشزدگی، آٹھ ہلاک

فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے ایک مشہور علاقے میں واقع ایک اپارٹمنٹ میں لگنے والی آگ کی وجہ سے کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس اس بات کی تحقیق کر رہی ہے کہ آیا یہ آگ حادثاتی طور پر لگی یا کسی نے دانستہ لگائی۔

جس اپارٹمنٹ میں آگ لگی، وہ پیرس کے مشہور علاقے ’موں ماترے ہِل‘ میں واقع ہے۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کے ترجمان پیئر آنری بینڈے کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں جبکہ زندہ بچ جانے والے چار افراد کو زخمی حالت میں ہسپتال داخل کروایا گیا ہے۔

پولیس اور وزارت داخلہ نے ہلاک ہونے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ یہ آگ منگل اور بدھ کی درمیانی شب لگی۔ پولیس نے تفتیشی عمل شروع کر دیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان پیئر آنری بینڈے نے یہ بھی بتایا کہ عمارت میں پہلے تھوڑے سے کاغذوں سے لگنے والی آگ پر فائر فائٹرز نے بر وقت قابو پا لیا لیکن دو گھنٹے بعد دوبارہ لگنے والے آگ عمارت کی بعض منزلوں تک تیزی سے پھیل گئی۔ بینڈے کے مطابق دوسری آگ انتہائی شدید تھی اور اِس پر قابو پانے کے لیے ہونے والی مشترکہ کوشش میں ایک سو کے قریب فائر فائٹرز شریک تھے۔ ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بعض نے کھڑکیوں سے چھلانگ بھی لگائی اور وہ نیچے گر کر جاں بحق ہو گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق آگ پھیلنے کے بعد لوگ ’’مدد اور بچاؤ‘‘ کے لیے چیخ رہے تھے۔ جوں جوں آگ پھیلتی جا رہی تھی، توں توں آگ میں پھنسے افراد کی چیخیں شدید ہوتی جا رہی تھیں اور قریبی عمارتوں کے لوگ انہیں سُن رہے تھے۔

بدھ کی صبح پیرس کی خاتون میئر انے ہڈالگو اور ملکی وزیر داخلہ برنارڈ کازینیو بھی آتشزدگی والی عمارت کو دیکھنے کے لیے گئے۔ پیرس کی خاتون میئر نے متاثرہ علاقے کو دیکھنے کے بعد کہا کہ اِس عمارت کے حوالے سے ماضی میں کبھی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی اور اِس کی مجموعی حالت بہتر تھی۔

بدھ کی رات لگنے والی آگ کا واقعہ پیرس ہی میں سن 2005 میں لگنے والی آگ کے بعد کا ایک ہولناک واقعہ قرار دیا گیا ہے۔ سن 2005 کی آگ ایک ہوٹل میں لگی تھی اور اُس میں چوبیس افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ اِس ہوٹل میں زیادہ تر افریقی مہاجرین مقیم تھے۔ تب ہلاک ہونے والے دو درجن افراد میں گیارہ بچے بھی شامل تھے۔