1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پیرس میں سینکڑوں مہاجرین کا عارضی کیمپ منہدم

فرانسیسی پولیس نے ملکی دارالحکومت کے نواح میں مہاجرین کی طرف سے خیموں کی مدد سے بنائے گئے ایک عارضی لیکن غیر قانونی کیمپ کو منہدم کر دیا ہے۔ اس کیمپ میں زیادہ تر افغان مہاجرین مقیم تھے۔

Frankreich Räumung eines Flüchtlingslagers in Paris

اس کیمپ میں زیادہ تر افغان مہاجرین مقیم تھے

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بائیس جولائی بروز جمعہ اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ فرانسیسی پولیس نے پیرس کے شمالی علاقے میں آپریشن کرتے ہوئے وہاں غیر قانونی طور پر سکونت اختیار کیے ہوئے مہاجرین کو ملک کے مختلف استقبالیہ مراکز میں منتقل کر دیا ہے۔

DW.COM

پولیس نے بتایا کہ ریلوے ہاؤسنگ والے علاقے کے ساتھ ساتھ بنائے گئے اس عارضی کیمپ میں بارہ سو تا چودہ سو مہاجرین سکونت پذیر تھے، جن میں سے زیادہ تر افغان باشندے تھے۔ افغان تارکین وطن کے علاوہ اس کیمپ میں اریٹریا اور صومالیہ سمیت کئی افریقی ممالک کے باشندے بھی قیام کیے ہوئے تھے۔

مہاجرین کے بحران کی وجہ سے فرانس میں حکومت اس ملک میں پہنچنے والے سبھی مہاجرین اور تارکین وطن کو رہائشی سہولیات کی فراہمی میں شدید مشکلات کا شکار ہے، جس کی وجہ سے ملک کے دیگر علاقوں کی طرح دارالحکومت پیرس کے نواح میں بھی ان مہاجرین نے اپنے لیے غیر قانونی ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔

فرانسیسی پولیس کے مطابق گزشتہ برس سے اب تک صرف پیرس کے ارد گرد بنائے گئے ایسے چھبیس عارضی کیمپوں کو ختم کیا جا چکا ہے۔ گزشتہ ہفتے ہی فرانسیسی پولیس نے اس کیمپ میں مداخلت کرتے ہوئے مہاجرین کے مابین ہونے والی ایک جھڑپ کو ختم کرایا تھا۔

فرانس میں انضمام اور مہاجرت سے متعلقہ امور کے ملکی دفتر کے سربراہ Didier Leschi کے مطابق اس مقام پر جمع ہونے والے مہاجرین کی کوشش تھی کہ وہ دیگر یورپی ممالک میں داخل ہو کر وہاں پناہ کی درخواست جمع کرا دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کیمپ میں کچھ ایسے مہاجر بھی مقیم تھے، جن کو فرانس میں پناہ تو مل چکی ہے لیکن ان کے پاس رہائش یا ملازمت کا کوئی انتظام نہیں تھا، اور اسی لیے وہ اس کیمپ میں آ گئے تھے۔

فرانس میں مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں نے ملک میں پناہ کے متلاشی افراد کے لیے رہائش گاہوں کی کمی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ فرانس میں گزشتہ دو برسوں کے دوران ایسے صرف بیس ہزار افراد کے لیے رہائش کا بندوبست کیا گیا ہے، جو انتہائی ناکافی ثابت ہوا ہے۔

مہاجرین کے لیے ناکافی رہائشی انتظامات کی وجہ سے پیرس کے شمالی علاقوں میں پہلے بھی اس طرح کے عارضی کیمپ بنا لیے گئے تھے، جہاں مہاجرین نے خیمے لگا کر خود ہی اپنے لیے رہائش کا انتظام کر لیا تھا۔ پولیس پہلے بھی ایسے کئی کیمپوں کو خالی کرا چکی ہے۔

مئی میں شہر کی میئر Anne Hidalgo نے کہا تھا کہ شہری انتظامیہ مہاجرین کے لیے باقاعدہ رہائش گاہوں کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے، جہاں تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ رواں سال ستمبر تک ایسی رہائش گاہوں کی تعمیر مکمل کر لی جائے گی۔

فرانس کے چیریٹی ادارے Terre d'Asile کے سربراہ پیئر ہنری کا کہنا ہے کہ فرانس کے تمام شہروں میں مہاجرین کے لیے رہائش کا مناسب انتظام ہونا چاہیے تاکہ یہ لوگ صرف دارالحکومت کے گرد ہی جمع ہونا نہ شروع کر دیں۔