1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پیرس منعقدہ لیبیا کانفرنس: 15 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال

جمعرات کو فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں تقریباً 60 ملکوں کے نمائندے جمع ہوئے تاکہ آپس میں صلاح و مشورے اور اتفاقِ رائے سے لیبیا کی عبوری قومی کونسل کے لیے اربوں ڈالر کی امداد کا معاملہ طے کر سکیں۔

default

پیرس کانفرنس کے شرکاء

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے کانفرنس کے بعد بتایا کہ بیرونی ملکوں میں لیبیا کے منجمد اثاثوں میں سے تقریباً 15 ارب ڈالر (تقریباً 10 ارب یورو) کی منجمد رقوم بحال کی جا رہی ہیں۔ دریں اثناء رُوپوش ہو جانے والے معمر قذافی بیرونی دنیا میں بھاری اثاثوں کے مالک تھے اور صرف جرمنی ہی میں اُن کے منجمد کیے جانے والے اثاثوں کی مالیت تقریباً 7.3 ارب یورو بنتی ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کانفرنس کو بتایا کہ اقوام متحدہ نے قذافی حکومت کے جرمن اکاؤنٹس میں سے ایک ارب یورو کی رقم لیبیا کے عوام کو فراہم کرنے کی منظوری دی ہے۔ میرکل نے عبوری قومی کونسل کو یہ بھی پیشکش کی کہ جرمنی پولیس کی تربیت اور نئے سیاسی ڈھانچوں کی تشکیل کے سلسلے میں لیبیا کی مدد کر سکتا ہے۔

عبوری قومی کونسل نے، جسے اب دُنیا کے تقریباً 80 ممالک لیبیا کا جائز نمائندہ تسلیم کر چکے ہیں، پیرس کانفرنس میں مطالبہ کیا کہ بیرونی دُنیا میں لیبیا کے جو بھی اثاثے منجمد کیے گئے تھے، اُنہیں جلد از جلد بحال کیا جائے۔ کونسل اس رقم کی مدد سے پبلک سروس کے ملازمین کو ادائیگی کرنا چاہتی ہے، جنہیں گزشتہ کئی مہینوں سے اُن کی تنخواہیں اور اجرتیں نہیں دی گئیں۔ اُدھر دارالحکومت طرابلس میں بنیادی سہولتوں کے نظام بحال کرنے کے لیے بھی رقم کی ضرورت ہے۔ کئی ملین کی آبادی والے طرابلس میں ابھی بھی ہر دَس میں سے چھ شہریوں کے پاس پانی نہیں ہے اور فراہمیء آب کے ساتھ ساتھ نکاسیء آب کے نظام کو بھی فوری طور پر بحال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اس کانفرنس کے میزبان تھے۔ اِس کانفرنس میں روس اور چین بھی شریک ہوئے، جنہوں نے جرمنی ہی کی طرح عالمی سلامتی کونسل میں لیبیا سے متعلق قرارداد میں اپنا حق رائے دہی محفوظ رکھا تھا۔ چین محض ایک مبصر کے طور پر پیرس کانفرنس میں شریک ہوا۔ روس نے اس کانفرنس کے آغاز سے کچھ ہی پہلے عبوری قومی کونسل کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یورپی یونین نے پیرس کانفرنس سے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ لیبیا کی قذافی حکومت کے خلاف عائد کی گئی پابندیاں نرم بنا دی جائیں گی۔ برسلز سے سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ 28 کاروباری اداروں، بینکوں یا حکام  کے نام پابندی کی ایک فہرست سے خارج کیے جا رہے ہیں تاہم قذافی خاندان کے ارکان کے لیے یورپی یونین کے ویزوں کی پابندی بدستور موجود رہے گی۔

پیرس کانفرنس میں شریک نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے کہا کہ جب تک لیبیا میں شہری آبادی کو خطرات لاحق رہیں گے، مغربی دفاعی اتحاد اپنا چھ ماہ کا آپریشن جاری رکھے گا۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے باغیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی صفوں میں انتہا پسند عناصر سے خبر دار رہیں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ ہتھیار غلط ہاتھوں میں نہ چلے جائیں۔

پیرس کانفرنس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون بھی شریک تھے، جنہوں نے کہا کہ وہ سلامتی کونسل کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے جلد از جلد اقوام متحدہ کا ایک مشن لیبیا روانہ کریں گے تاکہ وہاں ریاستی اداروں کی تشکیل نو کے ساتھ ساتھ  انسانی بحران پر بھی قابو پایا جا سکے۔ واضح رہے کہ لیبیا میں فروری میں عوامی بغاوت شروع ہونے کے بعد سے تقریباً آٹھ لاکھ ساٹھ ہزار افراد ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں، جن میں غیر ملکی ماہرین اور مہمان کارکن بھی شامل تھے۔

Libyen Paris Konferenz Frankreich Clinton USA

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن لیبیا کے رہنماؤں کے ہمراہ

اُدھر لیبیا میں باغیوں نے خونریزی سے بچنے کے لیے قذافی کے آبائی شہر سِرت کو ہفتے کے روز تک کے لیے دیے گئے الٹی میٹم کی مدت میں پورے ایک ہفتے تک کی توسیع کر دی ہے۔ اِس کے برعکس قذافی نے اپنے خفیہ ٹھکانے سے ایک صوتی پیغام میں اپنے حامیوں پر جنگ جاری رکھنے کے لیے زور دیا ہے۔ پیرس کانفرنس شروع ہونے سے کچھ ہی پہلے 69 سالہ معمر قذافی نے اپنے پیغام میں اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ ’وطن کو آزاد کروانے کے لیے وادی وادی، پہاڑ پہاڑ اور شہر شہر لڑائی کریں‘:’’جاؤ! ہتھیار اٹھاؤ اور لڑو۔ ہم ہتھیار نہیں پھینکیں گے، ہم عورتیں نہیں ہیں، ہم لڑائی جاری رکھیں گے۔‘‘

 

رپورٹ: امجد علی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM