1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پیرس ماحولیاتی معاہدے سے بھی ’بڑھ کر اقدامات‘ اٹھائیں گے، مودی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں سے ملاقات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پیرس ماحولیاتی معاہدے سے بھی ’اگے اور اوپر‘ جا کر اقدامات اٹھائیں۔

امریکی صدر کی طرف سے پیرس ماحولیاتی معاہدے سے اخراج کے اعلان کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا بیان دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’بھارت پیرس معاہدے سے آگے جاتے ہوئے اس پر کام کرے گا‘ کیوں کہ یہ مشترکہ عالمی ورثہ ہے۔

آج بروز ہفتہ فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں سے دو گھنٹے طویل ملاقات کرنے کے بعد مودی کا کہنا تھا کہ سن دو ہزار پندرہ میں ایک سو پچانوے ممالک نے جس معاہدے پر پیرس میں دستخط کیے تھے، وہ ’’ہمارے لیے امید ہے اور ہماری آئندہ نسلوں کے مستقبل کی حفاظت کر سکتا ہے۔‘‘

بھارت ضرر رساں گیسوں کے اخراج کے اعتبار سے دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ دنیا میں ضرر رساں گیسوں کا چار فیصد سے زائد حصہ پیدا کرتا ہے۔ بھارت نے دیگر ملکوں کی طرح اس مقدار میں کمی کا تو کوئی اعلان نہیں کیا لیکن یہ ضرور کہا ہے کہ وہ ماحول دوست توانائی کے استعمال میں اضافہ کرے گا۔

کلائمیٹ ڈیل، ’دنیا کو محفوظ بنانے کا موقع مل گیا‘

مودی کا کہنا تھا کہ ’میں اپنے فرانسیسی صدر کو یقین دہانی کروانا چاہتا ہوں کہ ہم ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے‘۔ ماکروں پیرس معاہدے کا یورپ کی طرف سے دفاع جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے امریکی صدر کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ جب ٹرمپ کی طرف سے اس معاہدے سے نکل جانے کا اعلان کیا تھا، تو فرانسیسی صدر نے ’میک دا پلینٹ گریٹ اگین‘‘ کی اپیل کی تھی۔ یہ ٹرمپ کی اس اپیل کا جواب تھی، جس میں انہوں نے کہا تھا، ’’میک دا امریکا گریٹ اگین۔‘‘

ٹرمپ کی طرف سے چین اور بھارت پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اس حوالے سے آسان راستہ اختیار کیا ہے۔

مودی کا کہنا تھا کہ ’’زمین ماتا کی حفاظت‘‘ کرنا بھارتی ثقافت کا حصہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایسا کرنا ان کے مذہب کے حوالے سے بھی اہم ہے کیوں کہ یہ بات ان کا مذہب سکھاتا ہے۔ فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ وہ شمسی توانائی کے حوالے سے ہونے والے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے رواں سال کے اوآخر میں بھارت کا دورہ کریں گے۔

DW.COM