1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پیرس فوڈ فیسٹیول میں مہاجر باورچیوں کے تیار کردہ کھانے

پیرس کے دس ریستوران مہاجرین کے طور پر فرانس آنے والے پیشہ ور باورچیوں کے لیے اپنے باورچی خانوں کے دروازے کھولنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ اس کا مقصد مہاجرین سے متعلق مقامی باشندوں کے عمومی رویوں میں تبدیلی کی کوشش ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ’فوڈ سویٹ فوڈ‘ نامی ایک فرانسیسی تنظیم کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملکی دارالحکومت میں ایک ایسے فوڈ فیسٹیول کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جس میں مہاجر باورچیوں سے ان کے آبائی ممالک کے مشہور اور خصوصی کھانے پکوائے جائیں گے اور ان کی نمائش کی جائے گی۔

منتظمین کے مطابق پیرس کے باشندے مہاجرین کے تیار کردہ ان کھانوں سے لطف اندوز ہو کر ان کے قریب ہو سکیں گے۔

’فوڈ سویٹ فوڈ‘ کے بانی لوئی مارتیں نے کہا کہ اس طرح یہ مہاجرین فرانسیسی معاشرے میں بہتر انداز سے انضمام کے قابل بھی ہو سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف خطوں سے آنے والے یہ مہاجرین نہ صرف ہنر مند ہیں بلکہ یہ اپنے اپنے ممالک کی ثقافتوں کے رنگ اور ذائقے بھی ہمراہ لائے ہیں۔

شام، بھارت، ایران، آئیوری کوسٹ، چیچنیہ اور سری لنکا سے تعلق رکھنے والے مجموعی طور پر سات باورچیوں کو سترہ تا اکیس جون پیرس کے مختلف ریستورانوں میں اپنے اپنے ممالک کے روایتی کھانے پکانے کے لیے مدعو کیا جائے گا۔

اس فوڈ فیسٹیول کا اہتمام ایک ایسے وقت پر کیا جا رہا ہے، جب بیس جون کو اقوام متحدہ کی طرف سے مہاجرین کا عالمی دن بھی منایا جاتا ہے۔ اس مناسبت سے اس دوران دیگر خصوصی تقریبات کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔

Libanon Muslime und Christen feiern zusammen

اس کا مقصد مہاجرین سے متعلق مقامی باشندوں کے عمومی رویوں میں تبدیلی کی کوشش ہے

پیرس کے ایک ریستوران کے کُک اسٹیفن جیگو نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہمیں احساس ہے کہ مختلف کھانے مختلف معاشروں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آتے ہیں۔ اس کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ ایک دوسرے کے معاشروں کے بارے میں کوئی علم بھی رکھتے ہوں۔‘‘

جیگو شامی مہاجر باورچی محمد الخادی کے ساتھ مل کر کھانے پکانے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہاجرین کے بحران کے دور میں منعقد کیے جانے والے اس فوڈ فیسٹیول سے نہ صرف فرانس کے مقامی باشندوں کو کھانوں کی ایک ورائٹی دستیاب ہو گی بلکہ اس سے مختلف معاشروں کے لوگوں کے مابین قربت بھی پیدا ہو گی۔