1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پیرس حملے، شامی مہاجرین ردعمل کے لیے تیار

جمعے کے روز پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد یورپ میں آئے ہوئے شامی مہاجرین میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق پر ایک حملہ آور کے پاس شامی پاسپورٹ برآمد ہوا ہے۔

بائیس سالہ شامی مہاجر خالد پیرس حملوں میں ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے برلن میں واقع فرانسیسی ایمبیسی کے باہر کھڑا ہے۔ سرد ہوا اور بارش کے دوران وہ موم بتی کی لو کو بجھنے سے بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے اس نے کہا، ’’ہم اس بحران کے دوران ان کے ساتھ ہیں اور ہر ممکن مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جو کچھ ان کے ساتھ اب ہوا، شام میں گزشتہ پچاس برسوں کے دوران ہمارے ساتھ ہر روز ایسا ہو رہا ہے، ہر روز اور وہ بھی سینکڑوں کی تعداد میں۔‘‘

خالد دمشق کے ایک میڈیکل کالج میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ لیکن جب اسے ملک میں جاری خانہ جنگی ختم ہونے کی کوئی امید دکھائی نہیں دی تو اس نے دمشق سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔

دیگر لاکھوں شامی مہاجرین کی طرح وہ بھی پانچ ماہ قبل کشتی کے ذریعے خطرناک سمندری سفر اور اس کے بعد سترہ روز کا پیدل سفر کر کے جرمنی پہنچا۔ وہ کالج میں جرمن زبان سیکھ رہا ہے۔ اب اسے امید ہے کہ وہ ڈینٹسٹ بننے کے اپنے خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ لیکن جمعے کے روز ہونے والے پیرس حملوں کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر غیر یقینی صورت حال میں ہے۔ اسے اندیشہ ہے کہ اس واقعے کے بعد یورپ میں شامی تارکین وطن کو یورپی شہریوں کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

فرانسیسی پولیس کو پیرس کے ایک جائے وقوعہ سے ایک شامی پاسپورٹ ملا ہے، یوں بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ایک حملہ آور شامی مہاجر بھی تھا۔ یونانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس شناخت کا حامل ایک شخص تین اکتوبر کو مہاجرین کے ساتھ یونان میں داخل ہوا تھا۔ اگرچہ یہ بھی واضح نہیں کہ حملہ آوروں میں ایک شامی مہاجر بھی شامل تھا لیکن اس کے باوجود لاکھوں کی تعداد میں یورپ پہنچنے والے شامی مہاجرین کے مستقبل کے بارے میں خدشات پیدا ہونے لگے ہیں۔

خالد یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ حملہ آور شامی باشندہ ہو سکتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یورپ اس کے شامی ہم وطنوں کو صرف اس لیے نشانہ نہ بنائے کہ حملہ آور کے پاس بھی شامی پاسپورٹ تھا۔ اس کے خیال میں یا تو پاسپورٹ جعلی ہے یا پھر اسے سازش کے تحت وہاں رکھا گیا۔ وہ کہتا ہے، ’’یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حملے کی جگہ پر سب کچھ تباہ ہو جائے اور پاسپورٹ سلامت رہے۔‘‘ لیکن کوئی ایسی سازش کیوں کرے گا؟ خالد کے مطابق، ’’کیوں کہ وہ لوگ شامی مہاجرین سے نفرت کرتے ہیں۔۔۔ بہت سے لوگ شامیوں سے نفرت کرتے ہیں۔‘‘

چوبیس سالہ ولیم بھی شامی تارک وطن ہے اور وہ بھی پانچ ماہ قبل جرمنی پہنچا۔ ولیم کا کہنا ہے، ’’خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ حملہ آور شامی مہاجر تھا، پولیس کو بھی شامی پاسپورٹ ملا ہے۔ یہ اچھا نہیں ہے۔ میں یقیناﹰ بہت پریشان ہوں۔‘‘ ولیم شام میں سیاحت کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ وہ مزید کہتا ہے، ’’شامی دہشت گرد نہیں ہیں، ہم امن کے طلب گار ہیں، اور کام کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب اس کے وطن میں امن ہو جائے گا تو وہ واپس جانے کو ترجیح دے گا۔

محمد داؤد گیارہ ماہ قبل جرمنی آیا تھا، داؤد کا کہنا ہے، ’’ہمیں یہاں خوش آمدید کہا گیا۔ لوگوں کو علم ہے کہ ہر کوئی دہشت گرد نہیں ہے۔ بہت سے مہاجرین دولت اسلامیہ جیسے دہشت گردوں سے بھاگ کر یہاں آئے ہیں۔‘‘ لیکن داؤد کو بھی اب اندیشہ ہے کہ ان کے لیے صورت حال تبدیل ہو جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنے خاندان کے ساتھ جرمنی پہنچ چکے ہیں اور وہ صرف ایک نئی اور پر امن زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔

فرانس میں ہجرت اختیار کرنے والے شامی صحافی ایہام الخلف بھی ’دولت اسلامیہ‘ کے زیر قبضہ علاقے سے بھاگ کر یورپ پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ’’پہلے ہی کچھ فرانسیسی عربوں کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہیں اور اب اس واقعے کے بعد ان کی نفرت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ یقیناﹰ ہماری مشکلات میں مزید اضافہ ہونے والا ہے۔‘‘

جو مہاجرین ابھی تک مغربی یورپ کے سفر پر ہیں، ان کے خدشات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اپنے شیرخوار بیمار بچے کو سینے سے لگاتے ہوئے بتیس سالہ کلام کہتی ہیں، ’’میں بس شام سے نکلنا چاہتی تھی، مجھے بہتر مستقبل کی امید ہے۔ مجھے کوئی ڈر نہیں ہے کہ یورپ میں ہمارے ساتھ کیا گا۔ جو بھی ہو گا شام سے تو بہتر ہی ہو گا۔‘‘