1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پیرس حملوں کے مشتبہ ملزم کو پولیس نے روکا تھا، رپورٹ

فرانسیسی پولیس نے پیرس حملوں کے مشتبہ ملزم صالح عبدالسلام کی گاڑی کو روک کر اس کی تلاشی لی اور پھر اسے جانے دیا تھا۔ بیلجیم نے عبدالسلام اور اس کے دو بھائیوں کے بین الاقوامی وارنٹ جاری کیے ہوئے ہیں۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے بتایا ہے کہ پیرس حملوں کے ایک اہم مطلوب ملزم صالح عبدالسلام کو فرانس میں دیکھا گیا ہے۔ پیر کے دن جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق فرانسیسی پولیس نے شمالی پیرس میں اس مشتبہ شخص کی گاڑی کو روکا، اس کی تلاشی لی اور پھر اسے جانے دیا۔

اتوار کے دن ہی بیلجیم حکام نے پیرس حملوں میں ملوث ہونے کے شبے میں چھبیس سالہ عبدالسلام کے بین الاقوامی وارنٹ جاری کر دیے تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ عبدالسلام کے اکتیس سالہ بھائی براہیم عبدالسلام نے جمعے کے دن باتاکلاں تھیٹر کے نزدیک ہی خود کش حملہ کیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ فرانسیسی شہریت رکھتا تھا جبکہ کچھ عرصے سے بیلجیم میں سکونت پذیر تھا۔

ان کا تیسرے بھائی محمد عبدالسلام برسلز میں گرفتار کیا جا چکا ہے، جس سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ تینوں بھائی فرانسیسی خفیہ اداروں کی فائلز میں شامل نہیں تھے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق فرانس اور بیلجیم کے سکیورٹی اداروں نے مشتبہ افراد کے خلاف اپنی کارروائی تیز تر کر دی ہے۔ ان دونوں ممالک میں مشتبہ افراد کے گھروں پر چھاپے مارے جانے کا عمل بھی جاری ہے۔ بتایا گیا ہے کہ فرانس میں ڈیڑھ سو مقامات پر چھاپے مارے جا چکے ہیں۔

پیرس حملوں کے حوالے سے کی گئی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جمعے کی رات پیرس میں ہوئے حملوں میں جنگجوؤں کی تین مختلف ٹیموں نے خونریز کارروائیاں کیں۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر 129 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے جبکہ تین سو سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔

طبی حکام نے بتایا ہے کہ کم از کم اسّی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ شام اور عراق میں سرگرم انتہا پسند گروہ داعش نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔

Frankreich Polizeifahndung nach Terroranschlägen in Paris

فرانس بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے

دوسری طرف پیرس حملوں کے بعد عالمی برادری نے فرانس کے ساتھ بھرپور اظہار یک جہتی کیا ہے۔ جرمنی سمیت متعدد یورپی ممالک کے علاوہ امریکا نے بھی کہا ہے کہ وہ ان حملوں میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے پیرس کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔

امریکی صدر باراک اوباما نے جی ٹوئنٹی سمٹ میں خبردار کیا کہ واشنگٹن اب داعش کے خلاف اپنی عسکری کارروائیوں میں مزید تیزی لائے گا۔ دریں اثناء فرانسیسی جنگی طیاروں نے شام میں ان جہادیوں کے خلاف تازہ حملے بھی کیے ہیں۔