1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

پیرس حملوں پر پاکستانی فلم، یورپ میں بھی پذیرائی

پاکستانی ڈائریکٹر سید مزمل حسن زیدی نے پیرس حملوں کے ردعمل میں تخیلق کردہ اپنی ویڈیو کی پذیرائی پرخوشی کا اظہار کیا ہے۔ اس مختصر سی ویڈیو میں فرانس کے ساتھ اظہار یک جہتی اور دہشت گردی کی نفی کی گئی ہے۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں تیرہ نومبر کو ہوئے بہیمانہ حملوں کے بعد پاکستان میں اس کا ردعمل کیا رہا؟ سید مزمل حسن زیدی نے اپنی دو منٹ اور نو سکینڈ دورانیے کی ایک ویڈیو میں اسی ردعمل کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ جمعہ بیس نومبر تک فیس بک پر 3.5 ملین افراد نے اس ویڈیو کو نہ صرف دیکھا بلکہ اسے بہت زیادہ پسند بھی کیا۔ نہ صرف پاکستان بلکہ مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی اسے سراہا۔

اس ویڈیو میں پانچ پاکستانی کامیڈین پیرس میں ہوئے حملوں پر تبصرہ کرتے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ کچھ حملہ آور اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے خونریز کارروائیاں کرتے ہیں، جن کا دراصل اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ان مزاح نگاروں نے بطور مسلمان خود کو ان دہشت گردوں سے الگ کر لیا اور کہا کہ وہ ایسے جنگجوؤں کے بہیمانہ اعمال پر معافی نہیں مانگیں گے کیونکہ یہ دہشت گرد ان کی نمائندگی نہیں کرتے۔

اس ویڈیو میں مزید بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں دہشت گردی سے متاثر مسلم ممالک ہی ہوئے ہیں۔ اس ویڈیو میں یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب یا عقیدہ نہیں ہوتا۔ اس تناظر میں انہوں نے پشاور کے ایک اسکول پر کیے گئے حملے کا تذکرہ بھی کیا، جس میں کئی دیگر افراد کے علاوہ 130 بچے بھی مارے گئے تھے۔

Marokko Rabat Trauer Solidarität Anschläge Paris

پیرس حملوں کے بعد دنیا بھر نے فرانس کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا

مزمل زیدی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس ویڈیو کی ریلیز کے بعد ملنے والی فیڈبیک انتہائی خوش کن رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپ میں بسنے والوں نے بھی اس ویڈیو کو پسند کیا اور کہا کہ اسے دیکھنے کے بعد ان کے نظریات میں تبدیلی آئی ہے۔ LolzStudios کے ڈائریکٹر پچیس سالہ مزمل زیدی نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے پیغام کو دنیا بھر پہنچانے پر وہ بہت خوش ہیں۔

مزمل زیدی کی میڈیا ٹیم اس سے قبل بھی کئی ویڈیوز بنا چکی ہے۔ پیرس حملوں پر تبصرہ کرتے ہوئے مزمل زیدی نے کہا کہ دراصل ان کا تعلق ان چند ممالک میں سے ایک ملک سے ہے، جو سمجھ سکتے ہیں کہ دہشت گردی کیا ہوتی ہے؟ ان کے مطابق یہ کہنا آسان ہے کہ یورپ میں اس نئی دہشت گردی میں مہاجرین ملوث ہو سکتے ہیں، لیکن دراصل یہ مہاجرین تو وہ انسان ہیں، جو ایسی ہی دہشت گردی کی وجہ سے اپنے اپنے ممالک سے فرار ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔