1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پیراڈائز پیپرز کا انڈیا کنیکشن

حال ہی میں جاری کیے گئے پیراڈائز پیپرز میں ایک مرکزی وزیر اور فلم اداکار امیتابھ بچن سمیت 714 بھارتی شامل ہیں۔ یہ انکشافات قوم پرست بی جے پی حکومت کے لیے ایک دہچکا قرار دیا گیا ہے۔

پیراڈائز پیپرز کی اشاعت کے بعد سب سے بڑی اپوزیشن کانگریس پارٹی نے مرکزی وزیر جینت سنہا سے استعفی اور حکومت سے پورے معاملے کی اعلی سطحی انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ انکشافات نریندر مودی حکومت کے لئے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔
کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی بھارتی شریک کار انگلش روزنامہ انڈین ایکسپریس ہے۔ اس اخبار میں شائع پیراڈائز پیپرز کے مطابق جن 180 ملکوں کو تفتیش میں شامل کیا گیا ‘ بھارت ان میں انیسویں نمبر پر ہے۔

’پاناما پیپرز‘ منظر عام پر لانے والوں کے لیے پولٹزر پرائز

پاناما پیپرز، طاقتور شخصیات کے خفیہ اثاتے اور تفصیلات

پاناما پیپرز: بھارتیوں کے ملوث ہونے کی انکوائری کا حکم

آئس لینڈ کے وزیراعظم پاناما لیکس کا پہلا شکار

پیراڈائز پیپرز کے مطابق مشہورفلم اداکار امیتابھ بچن نے سال2000-2002 کے درمیان بلیک منی کو قانونی بنانے والی فرضی کمپنیوں کی مدد سے ٹیکس ہیون کے طورپر برمودا میں ایک فرضی کمپنی میں شیئرز خریدے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب امیتابھ نے مشہور ٹی وی شو’کون بنے گا کروڑ پتی‘ کے پہلے ایڈیشن کی میزبانی کی تھی۔ انہوں نے جلوہ نامی میڈیا کمپنی میں پیسہ لگایا اور اس کے پارٹنر بنے۔ یہ کمپنی 2005 میں مبینہ طورپر بند کردی گئی۔ رپورٹ کے مطابق امیتابھ بچن نے اپنی آمدنی پرٹیکس دینے سے بچنے کیلئے ایک ایسی کمپنی میں پیسہ لگایا جس کا شاید کبھی وجود ہی نہیں تھا۔

Paradise Papers (picture-alliance/dpa/J.-F. Frey)

یراڈائز پیپرز کے مطابق جن 180 ملکوں کو تفتیش میں شامل کیا گیا ‘ بھارت ان میں انیسویں نمبر پر ہے۔


حالانکہ امیتابھ بچن نے ایسے الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے۔ پیراڈائز پیپرز کے انکشاف سے ایک دن قبل ہی اپنے بلاگ میں انہوں نے لکھا کہ’اس سے قبل بوفورز اسکینڈ ل اورپاناماپیپرز میں بھی ان کانا م آیا تھا اور ان سے وضاحت طلب کی گئی تھی ۔ میں نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے میرا نام استعمال کئے جانے پر جواب طلب کیا تھا لیکن جواب کبھی نہیں ملا۔‘ امیتابھ نے مزید لکھا ہے کہ ’وہ ہمیشہ ایک ذمہ دار شہری ہیں اور ہمیشہ ہرتفتیش میں تعاون کیا ہے۔‘
پیراڈائز پیپرز میں ایک اور بھارتی فلمی اداکار سنجے دت کی بیوی مانیتا دت(سابقہ نام دل نشیں) کا بھی ذکر ہے۔ مانیتا دت نے 2003 میں فلم گنگا جل میں ایک آئٹم سانگ کیا تھا۔ فی الحال وہ سنجے دت پروڈکشنز پرائیوٹ لمیٹیڈ کے بورڈ کی اہم رکن کے علاوہ کئی دیگر کمپنیوں کے بورڈ میں شامل ہیں۔ رپورٹ میں انہیں بہاماز کی ایک کمپنی کا ڈائریکٹر بتایا گیا ہے۔

Indien Premierminister Narendra Modi (Imago/Hindustan Times/D. Sansta)

پیراڈائز پیپرز کے انکشافات نریندر مودی حکومت کے لئے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جارہا ہے


مرکزی وزیر جینت سنہا نے پیراڈائز پیپر س میں اپنا نام آنے کے بعد آج کئی وضاحتی ٹویٹ کئے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے تمام لین دین قانونی اوردرست ہیں۔ جینت سنہا پہلے فنانس کے نائب وزیر تھے۔ حکمراں بی جے پی کے ممبر پارلیمان رویندر کشورسنہا نے پیراڈائز پیپرس میں اپنا نام آنے کے بعد خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
دریں اثنا دہلی میں حکمراں جماعت عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما آشوتوش کا کہنا ہے کہ پاناما پیپرس کے بعد پیراڈائز پیپرس نے بھارتی سسٹم میں پائی جانے والی خامیوں کو اجاگر کردیا ہے۔

DW.COM