1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پہلے کھانا کھائیں، پھر چھری کانٹا بھی کھا جائیں

بھارت میں ایک شخص نے کھانے پینے کے دوران استعمال ہونے والی کٹلری کا ایک نیا متبادل پیش کیا ہے۔ یہ چھری اور کانٹے کھانا کھانے کے بعد کھائے بھی جا سکیں گے۔

دنیا بھر میں سستے ہوٹلوں اور فاسٹ فوڈز میں کھانے کے ساتھ عام طور پر پلاسٹک سے بنے سستے کانٹے، چھری یا چمچ دیے جاتے ہیں۔ کئی لوگ اِن سے بیزار بھی ہوتے ہیں لیکن اُن کے پاس انہیں استعمال کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ بھی نہیں ہوتا۔ بھارتی شہر حیدر آباد کا رہائشی نارائن پیساپتی بھی ایسے لوگ میں سے ایک تھا۔ وہ پلاسٹک کے چھری کانٹوں سے شدید اُکتا گیا اور ایک دن اُس نے سوچا کہ کوئی بھی عملی طور پر آگے نہیں بڑھ رہا اور اب اُسے خود ہی کچھ کرنا ہو گا۔

نارائن پیسا پتی نے مختلف فوڈ آئٹمز پر غور کرنا شروع کر دیا۔ اس دوران اُس نے دریافت کیا کہ مال مویشیوں کے چارے کے لیے استعمال ہونے والی ایک گھاس مفید ہو سکتی ہے۔ یہ گھاس عام طور پر چینا یا اَرزَن کہلاتی ہے۔ انگریزی میں اِسے سورگم (sorghum) کہتے ہیں۔ پیساپتی نے اِس کے سفوف سے چھری کانٹے بنا ڈالے۔ شروع میں یہ کٹلری خاصی سخت محسوس ہوتی ہے لیکن استعمال کے ساتھ ساتھ یہ نرم ہونے لگتی ہے۔

سورگم یا چینا سے بنائی گئی کٹلری انسانی بدن کے لیے بھی مفید ہے۔ کھانا شروع ہونے کے دس پندرہ منٹ بعد سخت چھری اور کانٹے نرم ہونے لگتے ہیں اور اختتامِ خوراک پر انہیں آسانی کے ساتھ چبا کر کھایا جا سکتا ہے۔ اگر اِن کو پھینک بھی دیا جائے تو یہ ماحول دوست ہیں اور پلاسٹک کے چھری کانٹوں کی طرح اِن کا ماحول کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ چینا گھاس کی کٹلری آسانی کے ساتھ ضائع کی جا سکتی ہے یا پھر مال مویشیوں کے چارے کا حصہ بھی بنائی جا سکتی ہے۔

علمِ نباتات کے مطابق چینا یا ارزن یا سورگم گھاس کی ایک قسم ہے۔ اِس کا اصل وطن آسٹریلیا خیال کیا جاتا ہے لیکن قدیمی دور میں عراق و شام کے علاوہ ایشیا اور افریقہ بھی اِس کی موجودگی ڈھونڈ نکالی گئی ہے۔ بھارت اور بحرالکاہل کے کئی ملکوں میں بھی اب یہ اگائی جاتی ہے۔ چیناگھاس بظاہر خاص طور پر مال مویشیوں کے چارے کے طور پر استعمال کی جاتی ہے لیکن اب انسانوں نے اِسے اپنے دسترخوان کی زینت بھی بنا رکھا ہے۔ سورگم سُوپ خاص طور پر کئی ملکوں میں پسند کیا جاتا ہے۔ اِس کا دلیہ بھی کئی لوگوں کو بہت مرغوب ہے۔ چینا یا ارزن کی کئی قسمیں خاصی زہریلی خیال کی جاتی ہیں۔