1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

پہلے مرغی تھی یا انڈہ؟ جواب تقریباً مل گیا

پہلے مرغی تھی یا انڈہ؟ یہ سوال نسل انسانی کو ہزاروں سال سے مصروف رکھے ہوئے ہے۔ لیکن اب برطانوی سائنسدانوں کو اس کا جواب تقریباﹰ مل گیا ہے اور ان کا خیال ہے کہ دنیا میں پہلی مرغی کسی انڈے سے پیدا نہیں ہوئی تھی۔

default

مختلف معاشروں میں بچوں کی بے شمار نسلیں صدیوں سے یہ سوال ایک پہیلی کے طور پر سنتی آئی ہیں کہ انڈے اور مرغی میں سے پہلے کون پیدا ہوا تھا؟ لیکن اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوششیں عشروں سے سائنسدان بھی کر رہے ہیں۔

ایسی تازہ ترین مشترکہ کوشش شمالی اور وسطی انگلینڈ میں شیفیلڈ اور واروک یونیورسٹیوں کے ماہرین نے کی اور اس مقصد کے لئے حیاتیاتی تحقیق کے شعبے میں استعمال ہونے والے جدید ترین کمپیوٹر پروگراموں سے استفادہ کیا گیا۔

Ernährung - Hähnchen vom Grill

جرمنی میں گرل چکن بہت پسند کئے جاتے ہیں

ان برطانوی ماہرین کا خیال ہے کہ مرغی اور انڈے کے بارے میں صدیوں پرانے سوال کا جواب تلاش کرنے میں فیصلہ کن حیثیت انڈے کے چھلکے کی ہے، اس لئے کہ چھلکے کی تیاری میں مرغی کے جسم میں پائی جانے والی ایک خاص پروٹین انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

یہ بات تو پہلے ہی سے ماہرین حیاتیات کے علم میں تھی کہ انڈے کے چھلکے کی تیاری میں سب سے اہم کام OC-17 نامی پروٹین کا ہوتا ہے۔ اب لیکن سائنسدان جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ پتہ چلانے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ اس پروٹین سے مرغی کے انڈے کا چھلکا یا eggshell کیسے بنتا ہے۔

Hahn krähend

پہلے مرغی تھی یا انڈہ، مرغا تو بعد میں ہی آیا ہوگا!

اس تحقیق سے ثابت یہ ہوا کہ OC-17 پروٹین ایک عمل انگیز کا کام کرتے ہوئے کیلشیئم کاربونیٹ کے ذرات کو ایسی قلمی اکائیوں یا crystals میں تبدیل کرنا شروع کر دیتی ہے، جو بعد میں انڈے کے اردگرد حفاظتی چھلکے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس عمل میں اہم بات یہ ہوتی ہے کہ متعلقہ پروٹین چونے کے زیادہ سے زیادہ ذرات کی ایک عمل انگیز کے طور پر تشکیل نو کرتی رہے اور اس کام میں زیادہ وقت بھی نہ لگے۔

اس تحقیقی منصوبے کی قیادت کرنے والوں میں شیفیلڈ یونورسٹی کے پروفیسر جان ہارڈنگ بھی شامل ہیں، جو یہ کہتے ہیں کہ دنیا میں پہلی مرتبہ انڈے سے مرغی اس لئے پیدا نہیں ہوئی ہو گی کیونکہ انڈے کے چھلکے کی تیاری کے لئے مرغی کے جسم میں پائی جانے والی یہ خاص پروٹین لازمی طور پر درکار ہوتی ہے۔

اس کے برعکس کافی زیادہ امکان یہ ہے کہ حیاتیاتی ارتقاء کے دوران انڈے سے پہلے مرغی وجود میں آئی تھی۔ پروفیسر جان ہارڈنگ کے مطابق کیمیائی سطح پر یہ عمل انتہائی حیران کر دینے والا ہے کہ مرغی کے جسم میں انڈے کا چھلکا کیسے تیار ہوتا ہے۔’’اگر اس عمل کو صحیح طرح سمجھا جائے، تو ایسے نئے حقائق سامنے آ سکتے ہیں، جو عام استعمال کی متعدد نئی مصنوعات کی تیاری میں بہت مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔‘‘

پروفیسر ہارڈنگ مزید کہتے ہیں:’’ہر طرح کے مسائل کے حل کے لئے فطرت کے اپنے ہی جدت پسندانہ طریقے ہیں، جن کا جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پتہ چلا کر انسان بھی انہیں اپنے استعمال میں لا سکتا ہے۔ انسان قدرت کے ان اصولوں سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔‘‘

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM