1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’پہلے فوجیں ہٹاؤ‘ چین کی بھارت کو تنبیہ

چین نے بھارت سے ایک مرتبہ پھر اصرار کیا ہے کہ وہ ہمالیہ کے ایک متنازعہ علاقے سے اپنی  فوجیں ہٹائے۔ حالیہ برسوں کے دوران دونوں پڑوسی ممالک کے مابین یہ شدید ترین سرحدی کشیدگی ہے۔

چینی حکومت کا کہنا ہے کہ اس سرحدی مسئلے کو حل کرنے کے لیے بات چیت کے آغاز سے قبل بھارت کو اپنی فوجیں ہمالیہ کے اِس بلند میدانی علاقے سے واپس بلا لینی چاہیں۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق، ’’بھارت اگر اس معاملے میں اپنی سنجیدگی ظاہر کرنا چاہتا ہے تو اسے جلد از جلد اس علاقے سے اپنے دستے ہٹا لینے  چاہییں‘‘۔

یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب کچھ روز قبل ہی اطراف کے کچھ نمائندوں نے ایک ایسی ممکنہ لڑائی کی بات کی تھی، جو چین اور بھارت کے مابین 1962ء میں لڑی جانے والی جنگ سے زیادہ خونریز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ موضوع جمعہ سات جولائی سے جرمنی میں شروع ہونے والے جی ٹوئنٹی سربراہی اجلاس میں بھی زیر بحث آ سکتا ہے۔ ہیمبرگ اجلاس کے دوران چینی صدر شی جنگ پنگ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے مابین  ملاقات بھی ہو سکتی ہے۔

چین اور بھارت باہمی کشیدگی کی جانب بڑھتے ہوئے

بھارت اور چین باہمی اختلافات مناسب طور سے دور کریں، چینی صدر

 

خبر رساں اداروں کے مطابق ایسی غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ چین اور بھارت سرحد پر فوجیں جمع کر رہے ہیں اور گزشتہ کئی مہینوں سے اس تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال ایشیا کے ان دو حریف جوہری طاقتوں کے تعلقات میں بگاڑ کی نشاندہی کر رہی ہے۔

چین نے اپریل میں بھارت میں جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے تبتیوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کے دورہ ارونا چل پردیش پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اس پر نئی دہلی حکومت کا موقف تھا کہ بیجنگ بھارت کے داخلی معاملات میں دخل اندازی نہ کرے۔

 

DW.COM