1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پگھلتے ہوئے ہمالیہ کے گلیشئرز

اس مفروضے کی صداقت پر سوالیہ نشان آ گیا ہے کہ سن 2035ء تک کوہ ہمالیہ کے گلیشئرز کی بڑی مقدار پگھل جائے گی۔ ماحولیاتی سائنس میں ابھی تک یہ سب سے پریشان کن اندازہ تھاکہ مزید پچیس سالوں تک ہمالیہ کے گلیشئرز پگھل جائیں گے۔

default

ایک اندازے کے مطابق اگر موجودہ رفتار سے پچیس گنا زیادہ رفتار سے کوہ ہمالیہ کے گلیشئرز پگھلیں تو پھرکہیں سن 2035ء تک ان ذخائر کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ حال ہی میں بین الحکومتی پینل برائے ماحولیاتی تبدیلی IPCC نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ موجودہ ثبوت کی روشنی میں یہ کہنا درست نہیں ہے کہ سن 2035ء تک کوہ ہمالیہ کے گلیشئرز پگھل جائیں گے۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ اگرچہ یہ گلیشئرز پگھل رہے ہیں لیکن یہ ممکن نہیں کہ یہ آئندہ تیس برسوں کے اندر اندرمکمل طور پر پگھل جائیں گے۔ اس سے قبل اسی پینل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کوہ ہمالیہ کے دامن میں موجود گلیشئرز سن 2035 ء تک بگھل جائیں گے۔

کوہ ہمالیہ میں پوشیدہ برف کے تودے،دنیا بھر میں گلیشئیرز کے چند بڑے ذخائر میں شمار کئے جاتے ہیں۔ ان کے پگھلنے اس سے نہ صرف پانی کی قلت پیدا ہو گی بلکہ سیلاب کا بھی شدید خطرہ لاحق ہو گا۔ ان تمام باتوں کے باوجود اس خطے میں اس حوالے سے خبردار نہیں کیا گیا ہے۔

کوہ ہمالیہ کے گلیشئرز پگھلنے کی صورت میں جنوبی ایشیا اور چین کا ایک بڑا حصہ خشک سالی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں متاثرہ خطے کے تقریباً ایک بلین نفوس کو طویل المدتی بنیادوں پر پانی کی قلت کا سامنا ہوسکتا ہے اورلاکھوں افراد اپنا ذریعہ معاش کھو سکتے ہیں۔

کیا یہ گلیشئرزواقعتا سن 2035 ء تک پگھل جائیں گے؟ یہ کہانی اس وقت شروع ہوئی جب بھارت کے ایک سائنسی جریدے Down to Earth نے ایک ماہر ماحولیات سید اقبال حسین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمالیہ کے گلیشئرز دنیا کے دیگر گلیشئرز کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر پگھل رہے ہیں۔ اور اگر ان کے پگھلنےکی رفتار یہی رہی تو سن 2035 ء تک یہ ختم ہو جائیں گے۔ یہی کہانی ایک روسی ماہر ماحولیات اور با اعتماد سائنس دان Vladimir Kotlyakov کے نام سے بھی چھاپی گئی۔ اور بعدازاں اسی کہانی کو IPCC نے بھی سن 2007ء کی اپنی رپورٹ میں شامل کرلیاتھا۔

Chef des Weltklimarates begutachtet Solarküche

بین الحکموتی پینل برائے ماحولیاتی تبدیلیوں کے چئر مین راجندرا پچوری

بعد ازاں ایک ماحولیات دوست صحافی نے اس حوالے سے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان تمام بیانات کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ سید اقبال حسین نے کہا کہ انہوں نے اپنی رپورٹ میں کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جبکہ روسی ماہر ماحولیات سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے سن 2035ء کے بجائے 2350ء کا تخمینہ لگایا تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان علاقوں میں آبپاشی،صنعت اور توانائی کے ذرائع کو محفوظ بنانے کے لئے برف کے تودوں کو پگھلنے سے روکنے کے لئے فوری طور پر کوئی حکمت عملی تیار کرنا ہوگی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: کشور مصطفےٰ

DW.COM