1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

پکاسو کی نیو یارک سے چوری کردہ پینٹنگ ترکی سے مل گئی

ترک حکام نے قیمتی شاہکار چرانے اور ان کی غیر قانونی تجارت کرنے والے عناصر کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے عظیم مصور پابلو پکاسو کی ایک ایسی انتہائی قیمتی پینٹنگ اپنے قبضے میں لے لی ہے، جو نیو یارک سے چرائی گئی تھی۔

Francoise Gilot und Picasso

پابلو پکاسو کی ان کی ماڈل اور بعد میں بیوی بننے والے فرانسواز ژیلو کے ساتھ ایک تاریخی تصویر

انقرہ سے ہفتہ 30 جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق پکاسو کی جو شاہکار پینٹنگ ترک حکام نے اپنے قبضے میں لی ہے، اسے جرائم پیشہ عناصر نے امریکی شہر نیو یارک سے چوری کیا تھا اور وہ فنون لطیفہ کے بیش قیمت شاہکار جمع کرنے والی ایک خاتون کی ملکیت ہے۔

ترک نیوز ایجنسی انادولو نے آج بتایا کہ ترک حکام اس آئل پینٹنگ کو اس وقت اپنے قبضے میں لینے میں کامیاب ہوئے جب وہ ممکنہ خریداروں کے بھیس میں اس تصویر کی فروخت کے لیے ہونے والے ایک غیر قانونی سودے میں شریک ہوئے۔

اے ایف پی کے مطابق پکاسو نے اپنے اس شاہکار کو Femme se coiffant کا نام دیا تھا۔ یہ تصویر 1940 میں بنائی گئی تھی، جو اس دور میں پکاسو کی شریک حیات ڈورا مآر کی ہے۔ یہ پینٹنگ امریکا میں چوری کیے جانے کے بعد کسی طرح ترکی پہنچائی گئی، جہاں بہت قیمتی لیکن چوری شدہ فن پاروں کی غیر قانونی تجارت کرنے والے افراد اسے کسی مناسب گاہک کو بیچنا چاہتے تھے۔

شروع میں اس پینٹنگ کی فروخت میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے ساتھ بات چیت ایک ہوٹل میں کی گئی، جس کے بعد دوسرے مرحلے میں حتمی سودا طے کرنے کی کوشش ترک شہر استنبول کی بندرگاہ میں کھڑی ایک پرتعیش کشتی پر کی گئی۔

Pablo Picasso 1920

تقریباﹰ چالیس برس کی عمر میں، 1920ء میں، پابلو پکاسو اپنے اسٹوڈیو میں

شروع میں پینٹنگ بیچنے کے خواہش مند افراد اس کے عوض آٹھ ملین ڈالر طلب کر رہے تھے لیکن بعد میں وہ اسے 7.3 ملین ڈالر میں فروخت کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ پھر طے یہ پایا کہ یہ پینٹنگ استنبول ہی کے ایک کیفے میں جمعہ 28 جنوری کے روز اس کے نئے ’مالکان‘ کے حوالے کر دی جائے گی۔

لیکن اس کی نوبت ہی نہ آئی اور خریداروں کے بھیس میں ترک سکیورٹی ایجنٹوں نے دونوں مجرموں کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا اور پابلو پکاسو کی یہ شاہکار تخلیق بھی اپنے قبضے میں لے لی۔

ترک میڈیا کے مطابق ممکنہ طور پر نیو یارک میں اس کی مالکہ کو واپس کیے جانے سے پہلے اس پینٹنگ کا استنبول کی آرٹ یونیورسٹی کے ماہرین تفصیلی معائنہ کریں گے۔

DW.COM