پچیس سال بعد جرمن فوج کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ | حالات حاضرہ | DW | 11.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پچیس سال بعد جرمن فوج کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے جرمن فوج کی تعداد میں مسلسل کمی کی جاتی رہی ہے۔ تاہم اب جرمن وزارت دفاع نے فوج میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔

یچیس سال کے بعد برلن حکومت ملکی فوج کی تعداد بڑھانا چاہتی ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق ابتدائی طور پر سات ہزار نئے اہلکار فوج کا حصہ بنیں گے۔ اس کے بعد 2023ء تک فوج میں مزید تقریباً ساڑھے چودہ ہزار افراد شامل کیے جائیں گے۔ وزیر دفاغ ارزولا فان ڈیئر لائن کے مطابق، ’’گزشتہ مہینوں کے دوران جرمن فوج پر ماضی کے مقابلے میں کافی حد تک بوجھ میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘ اس بوجھ سے ان کی مراد دیگر ممالک میں جرمن فوج کی تعیناتی سے ہے۔

Deutschland Ursula von der Leyen stellt das neue Personalkonzept der Bundeswehr vor

فان ڈیئر لائن کے مطابق فوج کے دیگر شعبوں میں بھی عملے کی کمی ہے

جرمنی کے 250 فوجی اقوام متحدہ کے چھ امن مشنز میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں لبنان کے ساحلوں کی حفاظت اور مالی میں استحکام لانے کے مشنز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جرمن فوج کے تقریباً ساڑھے چار ہزار اہلکار مختلف ممالک میں جاری نٹیو مشنز کا حصہ ہیں۔

فان ڈیئر لائن نے مزید کہا کہ فوج کے دیگر شعبوں میں بھی عملے کی کمی ہے،’’اگلے سات برسوں کے دوران ملکی فوج کے دیگر شعبوں میں عام شہریوں کے لیے تقریباً ساڑھے چار ہزارآسامیاں بھی پیدا کی جائیں گے۔‘‘ فان ڈیئر لائن کا ایک ہدف ملکی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنا بھی ہے۔ ان کی حکمت عملی کی بنیاد فوجی اخراجات میں اضافہ، عسکری آلات کو جدید بنانا اور ایک لچک دار پالیسی اختیار کرنا ہے۔

جرمن وزارت دفاع کے مطابق یہ فیصلہ پتھر پر لکیر نہیں ہے اور اگلے برسوں کے دوران ضروریات کا جائزہ لیتے ہوئے اس تعداد میں تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے۔ جرمن فوج میں اہلکاروں کی تعداد ایک لاک ستتر ہزار ہے اور اس طرح وزارت دفاع اپنی حدود کو پہنچ چکی ہے۔ جرمن فوج میں ماہرین کی کمی کوئی نیا موضوع نہیں ہے اس پر اس سے قبل بھی کئی مرتبہ بحث کی جا چکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جرمن فوج میں سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے تجربہ کار افراد، ڈاکٹروں، نرسوں اور فضائی نگرانی کے شعبے کے ماہرین کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ بھی فوج کو اور بھی کئی شعبوں میں افرادی قوت کی قلت کا سامنا ہے۔

سرد جنگ کے دور میں جرمن فوج کا عملہ تقریباً پونے چھ لاکھ تھا تاہم 1990ء میں جرمنی کے دوبارہ اتحاد کے بعد سے اس میں کمی کا سلسلہ جاری رہا اور آج کل یہ تعداد ایک لاکھ ستتر ہزار کے قریب ہے۔