1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پچاس ہزار شامی مہاجر صحرائی علاقے میں پھنس کر رہ گئے

قریب پچاس ہزار شامی مہاجرین اردن کے صحرائی سرحدی علاقے میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ شامی مہاجرین کی آمد میں اضافے کے باعث جنوری میں شروع کی گئی سکیورٹی چیکنگ اس صورتحال کی ذمہ دار قرار دی جا رہی ہے۔

Syrische Flüchtlinge an jordanischer Grenze

سکیورٹی چیکنگ کو اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے مقامی نیوز ایجنسی پیٹرا کے حوالے سے بتایا ہے کہ اردن کی سرحد پر مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے ایک نئی بحرانی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

DW.COM

حکومتی ترجمان محمد مومنی نے بتایا ہے کہ ہدالت اور روکبان کی سرحدی چیک پوسٹوں کے درمیان صحرائی علاقے میں جمع شامی مہاجرین کی تعداد پچاس ہزار ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد کے آگے بڑھنے میں حائل مشکلات کی وجہ سے صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔

جنوری میں اس مقام پر جمع ہونے والے مہاجرین کی تعداد سولہ ہزار تھی۔ تب اردن کی حکومت نے عالمی برادری سے اپیل بھی کی تھی کہ ان مہاجرین کو سہولیات کی فراہمی کے لیے اردن کی مدد کی جائے۔

محمد مومنی کے مطابق سلامتی کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے شام سے متصل سرحدی علاقوں پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ شام سے اردن میں داخل ہونے والے مہاجرین کی درجہ بندی کی جا رہی ہے اور پہلے بزرگ، بیمار، خواتین اور بچوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

مومنی نے کہا کہ اس صحرائی علاقے میں قائم شیلٹر ہاؤسز میں روزانہ کی بنیاد پر 75 امدادی کارکن جاتے ہیں، جو وہاں دیگر امدادی تنظیموں کے ورکرز کے ساتھ مل کر ان مہاجرین کے لیے امدادی کام سرانجام دیتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے سربراہ فیلیپو گرانڈی نے رواں برس کے آغاز پر ہی کہا تھا کہ وہ اردن کے سکیورٹی تحفظات کو سمجھتے ہیں، جن کی وجہ سے مہاجرین کی رجسٹریشن کا عمل سست روی کا شکار ہے۔

Jordanien Mohammad Momani

حکومتی ترجمان محمد مومنی کے مطابق سلامتی کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے شام سے متصل سرحدی علاقوں پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے

اردن نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی شامی مہاجر کو پناہ دینے سے قبل اس امر کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ کہیں کوئی جہادی کسی مہاجر کے بھیس میں اردن میں داخل نہ ہو جائے۔

انہی خدشات کی وجہ سے اردن کے حکام سخت چیکنگ کے بعد ہی روازنہ کی بنیاد پر صرف قریب درجن بھر شامی مہاجرین کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت اردن میں چھ لاکھ تیس ہزار سے زائد مہاجرین پناہ گرین ہیں۔ اردن کا کہنا ہے کہ ان مہاجرین کی اصل تعداد 1.4 ملین ہے کیونکہ بہت سے افراد مہاجرین کے طور پر رجسٹر ہی نہیں کیے گئے۔