1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پٹھان کوٹ بیس پر حملہ دوسرے دن بھی جاری، اب تک 11 ہلاکتیں

بھارتی فضائیہ کے پٹھان کوٹ اڈے پر عسکریت پسندوں کا حملہ آج اتوار کو دوسرے روز بھی جاری ہے اور حکام کے مطابق ابھی تک دو حملہ آور وہاں چھپے ہوئے ہیں۔ اب تک ایک کرنل اور چار حملہ آوروں سمیت گیارہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

بھارتی ریاست پنجاب میں پٹھان کوٹ کے اسی شہر سے موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان کے ساتھ بھارتی سرحد سے 25 کلومیٹر دور واقع اس ایئر بیس پر متعدد مسلح عسکریت پسندوں نے یہ حملہ کل ہفتہ دو جنوری کو علی الصبح شروع کیا تھا۔

DW.COM

ہفتے ہی کے دن قریب 15 گھنٹے تک جاری رہنے والے فائرنگ کے تبادلے کے بعد ملکی سکیورٹی فورسز نے اعلان کیا تھا کہ ان کا آپریشن مکمل ہو گیا ہے، جس دوران مجموعی طور پر چھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ تمام زخمی بھارتی فوجی تھے اور مرنے والوں میں سے چار عسکریت پسند بتائے گئے تھے اور دو سکیورٹی اہلکار۔

لیکن آج اتوار تین جنوری کی صبح ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا کہ ملکی ایئر فورس کے اس اڈے میں ابھی تک دو اور عسکریت پسند چھپے ہوئے ہیں، جن کے ساتھ سیکورٹی اہلکاورں کا فائرنگ کا تبادلہ آج بھی جاری رہا۔ اس دوران اس ایئر بیس سے بار بار دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں۔ روئٹرز کے مطابق بھارت کی وفاقی پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ ممکنہ طور پر دو مسلح شدت پسند ابھی اس ایئر بیس کے اندر موجود ہیں، جن کے خلاف سکیورٹی فورسز اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ بھارتی حکام نے یہ تصدیق بھی کر دی ہے کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر اب گیارہ ہو گئی ہے۔ ان میں چار حملہ آور بھی شامل ہیں۔ باقی سات وہ بھارتی فوجی بتائے گئے ہیں، جو اس خونریز کارروائی میں عسکریت پسندوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ ان میں سے ایک بھارتی فوج کا ایک لیفٹیننٹ کرنل بتایا گیا ہے۔

قبل ازیں، جب انڈین سکیورٹی فورسز کا خیال تھا کہ ان کا آپریشن مکمل ہو گیا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا، تو وزیر اعظم نریندر مودی سمیت ملکی سیاستدانوں نے اس حملے کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کی ہمت کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ’اس اڈے پر حملہ کرنے والے انسانیت کے دشمنوں کو ان کے ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دیا‘۔

آج لیکن دوسرے روز فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوتے ہی صورت حال یکدم بدل گئی اور حکام کو احساس ہوا کہ پٹھان کوٹ ایئر بیس میں، جہاں ہر وقت درجنوں کی تعداد میں جنگی ہوائی جہاز تیار کھڑے رہتے ہیں، ہفتے کے روز مارے جانے والے عسکریت پسندوں کے کم از کم دو ساتھی ابھی تک موجود ہیں۔

Indien Angriff auf Luftwaffenstützpunkt in Punjab

انڈین سکیورٹی فورسز کا خیال تھا کہ ان کا آپریشن مکمل ہو گیا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا

اس حملے کے پہلے روز کل جو دو بھارتی فوجی مارے گئے تھے، ان میں سے ایک کا نام صوبیدار فتح سنگھ تھا۔ بھارت کی نیشنل رائفل ایسوسی ایشن کے مطابق فتح سنگھ ایک ایسا ماہر نشانچی تھا، جس نے 1995ء میں ہونے والی پہلی دولت مشترکہ شوٹنگ چیمپئن شپ میں سونے اور چاندی کے تمغے جیتے تھے۔

روئٹرز نے پٹھان کوٹ میں ایک پولیس افسر کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ اس فضائی اڈے پر آج ہونے والے ایک دھماکے میں کم از کم دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے، جن میں سے ایک بعد میں دم توڑ گیا۔ حکام نے اس ہلاکت کی تاحال حتمی تصدیق نہیں کی۔

مختلف نیوز ایجنسیوں کی پٹھانکوٹ سے ملنے والی تازہ رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارتی سکیورٹی اہلکار وہاں موجود عسکریت پسندوں کی اس ایئر فورس بیس کے ہر حصے میں تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔