1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پٹسبرگ میں G20 سربراہ کانفرنس آج سے شروع ہو رہی ہے

دنیا کے بیس طاقتور ترین صنعتی ملکوں اور مضبوط معیشتوں کے سربراہان آج جمعرات چوبیس ستمبرکو امریکی شہر پٹس برگ میں جمع ہورہے ہیں۔

default

پٹس برگ سمٹ میں جی ٹوئنٹی کے رہنما اس بات پر تبادلہء خیال کریں گے کہ مستقبل میں کس طرح اقتصادی بحران کے امکان پر قابو پایا جایا سکے گا۔

اگرچہ امریکہ، کئی یورپی ملکوں اور چین میں بڑے مالی منصوبوں کے مثبت اثرات واضح طور پر سامنے آنا شروع ہوگے ہیں تاہم پٹس برگ میں جی ٹوئنٹی ممالک کے رہنما عالمی معیشت کو سہارا دینے کے لئے مزید مالی پیکیجوں کے بجائے دیگر اقدامات پر غور کریں گے۔

G 20 Gipfelteilnehmer in London

بیس طاقتور ترین صنعتی ملکوں اور مضبوط معیشتوں کے سربراہان کا گروپ فوٹو

اقتصادی بحران پر پوری طرح سے قابو پانے سے متعلق گروپ ٹوئنٹی کے رکن ملکوں کے مابین کئی معاملات پر شدید اختلافات ہیں۔ بینکوں کے بونسز محدود کرنے پر اتفاق رائے نہیں ہے جبکہ جی ٹوئنٹی کے اراکین میں اس بات پر بھی شدید اختلافات ہیں کہ معاشی ترقی کی شرح میں کس طرح اضافہ ممکن ہے۔

اب سے پانچ ماہ قبل سن 1930ء کے ’گریٹ ڈپریشن‘ کی باتیں ہورہی تھیں اور ایسے خدشات ظاہر کئے جارہے تھے کہ دنیا کو ایک مرتبہ پھر اسی طرح کے مالیاتی بحران کا سامنا ہوسکتا ہے، جس سے باہر آنا یا جس پر قابو پانا انتہائی مشکل ہوگا۔ لیکن اب صورتحال کچھ تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے۔ جی ٹوئنٹی رہنماوٴں کی توجہ اب مالیاتی پیکیجوں سے ہٹ کر ایسے اقدامات پر مرکوز ہوگئی ہے جن سے مستقبل میں دوسرے ممکنہ ’گریٹ ڈپریشن‘ کو ٹالا جاسکے۔

اس سال اپریل میں جب جی ٹوئنٹی رہنما لندن میں جمع ہوئے تھے تو صورتحال انتہائی گمبھیر تھی۔ اب اقتصادی ماہرین دوسرے ’گریٹ ڈپریشن‘ کے امکان کے بجائے یہ کہہ رہے ہیں کہ عالمی معیشت تنزّلی سے واپس پٹری پر آنا شروع ہوگئی ہے۔

امریکی وزیر خزانہ ٹموتھی گائتھنر کے مطابق اس وقت امریکہ معاشی بحالی کے ابتدائی مرحلے میں ہے۔کئی یورپی ممالک اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کسی بھی طرح کے ممکنہ اقتصاتی بحران سے بچنے کے لئے سخت مالیاتی قوائد و ضوابط طے کئے جانے چاہییں۔

ادھر بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے گروپ ٹوئنٹی کے رکن ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک ساتھ مل کر ’پروٹیکشنزم‘ کے خلاف آواز اٹھائیں۔ من موہن سنگھ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عالمی معیشت اب بھی مکمل طور پر سنبھل نہیں سکی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نے طاقت ور ممالک پر زور دیا کہ وہ ترقی پزیر ممالک کے مفادات کا بھی خیال کریں۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی

ادارت: عدنان اسحاق