1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پٹرولیم مصنوعات پر حکومتی ٹیکس کا سلسلہ اور پاکستانی عدلیہ

پاکستان میں کاربن ٹیکس کی عارضی معطلی کے بعد حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔ اِس آرڈیننس کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

default

پاکستانی سپریم کورٹ کی عمارت

سپریم کورٹ کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل پر لگائے جانے والے کاربن ٹیکس کی عارضی مُعطلی کے فیصلے کے چھتیس گھنٹوں سے بھی کم عرصے کے بعد حکومت کی جانب سے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان سے عدلیہ اور حکومتی انتظامیہ کے درمیان تناؤ کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔

اِس مناسبت سے جمعرات کو وزیر اعظم سیّد یوسف رضا گیلانی نے پریس کانفرنس میں پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کے نفاذ کے صدارتی آرڈیننس کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اُن کے مشورے سے جاری ہوا ہے۔ وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ مالی مشکلات کے سبب مُتفقہ طور پر پارلیمان نے کاربن ٹیکس کے نفاذ کی منظوری دی تھی اور اب انہی مشکلات کے پیش نظر پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کا آرڈیننس جاری کیا گیا ہے۔

Yousaf Raza Gilani Pakistan Wahlen

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی

وزیر اعظم نے یہ بھی بتایا ہے کہ اٹارنی جنرل نے یہ آرڈیننس سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو پیش کردیا ہے اور اب عدلیہ جو بھی اِس پر فیصلہ کرے گی حکومت اُس کا احترام کرے گی۔ وزیر اعظم نے پریس کانفرنس میں کہا کہ عدلیہ کو درخواست کی گئی ہے کہ وہ حکومت کے دلائل سنے اور حکومت کی مالی ٹیم کی بات بھی سنی جائے۔ وزیر اعظم کے مطابق حکومت کی مالی ٹیم ملک سے باہر ہے اور وہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہے۔ حکومت نے عدلیہ سے اپنا مؤقف بیان کرنے کے لئے مہلت طلب کی ہے۔

دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات میں دوبارہ اِضافے کے حکومتی فیصلے پر عوام اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اِس کوحکومت کی جانب سے عدلیہ کے ساتھ تصادم قرار دیا ہے۔ اپوزیشن لیڈروں احسن اقبال نے اِس کو شب خون کے برابر قرار دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد کا خیال ہے کہ حکومت اِس آرڈیننس کے نفاذ کے بعد عدلیہ کے سامنے کھڑی ہو گئی ہے۔ عمران خان نے رات کے اندھیرے میں لگائے جانے والے آرڈیننس کے خلاف اسلام آباد میں مظاہرے کا بھی اعلان کیا ہے۔

اِس کے ساتھ ساتھ معروف وکیل اکرام چوہدری نے پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ چیلنج جمعہ کو کیا جائے گا۔