پُسی رائٹ کی دو گلوکارائیں روس سے فرار | فن و ثقافت | DW | 27.08.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

پُسی رائٹ کی دو گلوکارائیں روس سے فرار

پُسی رائٹ میوزک بینڈ کی دو گلوکارائیں روس سے فرار ہو گئی ہے۔ اس بات کا اعلان اس میوزک بینڈ نے کیا ہے، تاہم یہ نہیں بتایا کہ وہ کہاں گئی ہیں۔

پُسی رائٹ گروپ نے اپنی دو ارکان کے روس سے فرار کا اعلان ٹوئٹر پر کیا ہے۔ اس پیغام میں کہا گیا ہے: ’’پولیس کو مطلوب ہماری دو ارکان روس سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ وہ غیرملکی خواتین کو اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ نئے ایکشن کی تیاری کر سکیں۔‘‘

روس کی ایک عدالت نے پُسی رائٹ کی تین گلوکاراؤں ماریا الویوخینا، نادیجدا تولوکونیکوا اور ییکاترینا سموتسیویچ کو 21 اگست کو مذہبی منافرت پھیلانے اور شورو وغُل کے الزام میں دو دو برس قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق پنک بینڈ میں شامل تینوں خواتین نے ماسکو کے مرکزی گرجا گھر میں ہنگامہ آرائی کی۔

جج مارینا سیرووا کا کہنا تھا کہ ان تینوں نے یہ کام باقاعدہ منصوبہ بندی کےساتھ کیا۔ تینوں گلوکاراؤں نےرواں برس 21 فروری کو ماسکو کے مرکزی گرجا گھر میں اپنے مخصوص پنک انداز میں صدر ولادیمیر پوٹن سے ’نجات کے لیے‘ دعا کی تھی۔

اس عدالتی فیصلے کے بعد پولیس نے کہا تھا کہ پُسی رائٹ کی دیگر دو خواتین کو بھی گرفتار کیا جائے گا جو اکیس فروری کے ’احتجاج‘ میں شریک تھیں۔

Gericht: Zwei Jahre Haft für Pussy Riot

ماریا الویوخینا، نادیجدا تولوکونیکوا اور ییکاترینا سموتسیویچ

ساتھ ہی تین گلوکاراؤں کی سزا کے فیصلے کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے جبکہ فیصلے کی مذمت بھی کی گئی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ان تین خواتین کو خاموش کرانے کی کوشش ہے۔

امریکا نے سزا کے اس فیصلے کو ’غیرمتناسب‘ قرار دیا تھا۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور یورپی یونین نے بھی تنقید کی تھی۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نُولینڈ نے ایک بیان میں کہا تھا: ’’امریکا کو اس فیصلے، غیرمناسب سزاؤں اور روس میں آزادئ اظہار پر اس کے منفی اثر پر تشویش ہے۔‘‘

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے پُسی رائٹ کی گلوکاراؤں کے خلاف سزا کو ’بے حد سخت‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ روس ’یورپی قانون اور جمہوریت‘ کے تقاضوں پر پورا نہیں اتر رہا۔

برطانیہ کے جونیئر وزیر خارجہ الیسٹیئر بُرٹ کا کہنا تھا کہ ’سیاسی اعتقاد کے اظہار‘ پر روس کے ردِ عمل پر انہیں گہری تشویش ہے۔

انہوں نے کہا تھا: ’’ہم نے روسی حکام پر بارہا زور دیا ہے کہ وہ آزادئ اظہار سمیت انسانی حقوق کا تحفظ کریں اور قانون کی حکمرانی کو بلا امتیاز اور متناسب انداز سے نافذ کریں۔‘‘

یورپی یونین کی سربراہ برائے خارجہ امور کیتھرین ایشٹن نے ماسکو حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سزا کا یہ فیصلہ واپس لے۔

ng / ah (AFP, dpa)