’پُر جوش تجربہ کرنے‘ کے شوقین سابق جاسوس کو آٹھ سال قید | حالات حاضرہ | DW | 17.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’پُر جوش تجربہ کرنے‘ کے شوقین سابق جاسوس کو آٹھ سال قید

جرمن شہر میونخ کی ایک عدالت نے ایک سابقہ جرمن انٹیلیجنس ایجنٹ کو، جو محض کوئی ’پُر جوش تجربہ‘ کرنا چاہتا تھا اور اسی لیے سی آئی اے اور روسی سیکرٹ سروس دونوں کے لیے جاسوسی کرتا رہا تھا، آٹھ سال کی سزائے قید سنا دی ہے۔

Deutschland Prozess gegen Markus R. BND

استغاثہ نے اس سابق جاسوس کے لیے دَس سال کی سزائے قید کا مطالبہ کیا تھا تاہم عدالت نے ماضی کے بے داغ ریکارڈ اور اعتراف جرم کر لینے کی بناء پر ملزم کو قدرے کم سزا دی

مارکُس رائشل نامی اس جرمن جاسوس نے اس امر کا اعتراف کر لیا تھا کہ اُس نے پچانوے ہزار یورو کے بدلے میں جرمن خفیہ ادارے بی این ڈی کے ایجنٹوں کے ناموں اور پتوں سمیت ’درجنوں دستاویزات اور داخلی معلومات‘ سی آئی اے کے حوالے کیں۔ ان تقریباً دو سو دستاویزات میں سے چند ایسی بھی تھیں، جنہیں انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا کیونکہ ان میں یہ بتایا گیا تھا کہ بی این ڈی دوسرے ملکوں کی جانب سے جاسوسی کو روکنے کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کرتی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اس بتیس سالہ جرمن شہری نے تین خفیہ دستاویزات روسی سیکرٹ سروس کو بھی فراہم کیں۔

عدالت نے رائشل کو ملک سے غداری اور سرکاری رازوں کو افشا کرنے کے دو الزامات کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کے پانچ الزامات کے لیے بھی قصور وار قرار دیا اور کہا کہ اُس کی سرگرمیوں نے جرمنی کی بیرونی سلامتی کو سنگین خطرے سے دوچار کیا۔

استغاثہ نے اس سابق جاسوس کے لیے دَس سال کی سزائے قید کا مطالبہ کیا تھا تاہم عدالت نے اس بناء پر ملزم کو قدرے کم سزا دی کہ وہ ایک تو ماضی میں کبھی بھی سزا یافتہ نہیں رہا تھا اور دوسرے اُس نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا تھا۔

رائشل کا یہ معاملہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب سابق امریکی انٹیلیجنس ایجنٹ ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی جانے والی دستاویزات کے مطابق امریکا بڑے پیمانے پر جاسوسی کر رہا ہے۔ ان انکشافات نے جرمن خفیہ ادارے بی این ڈی کو بھی ایک بڑے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

رائشل نے، جو بچپن میں لگائے جانے والے حفاظتی ٹیکوں کی وجہ سے قدرے معذوری کا بھی شکار ہے اور اٹک اٹک کر بولتا ہے، عدالت کو بتایا: ’’بی این ڈی کی جانب سے مجھ پر کسی بھی معاملے میں اعتبار نہیں کیا گیا، سی آئی اے میں معاملہ مختلف تھا۔ امریکیوں نے میری خدمات کا اعتراف کیا اور یہ چیز مجھے اچھی لگی۔ میں کچھ نیا چاہتا تھا، کوئی پُر جوش تجربہ کرنا چاہتا تھا۔‘‘

2004ء میں خصوصی افراد کے ایک تربیتی مرکز میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد رائشل 2007ء کے اواخر تک کوئی ملازمت حاصل کرنے کی جدوجہد کرتا رہا اور یہی وہ وقت تھا، جب بی این ڈی کی جانب سے اُسے بارہ سو یورو ماہانہ کی ایک چھوٹی سی ملازمت کی پیشکش کی گئی، جو اُس نے قبول کر لی۔

Deutschland Prozess gegen Markus R. BND

مارکُس رائشل بچپن میں لگائے جانے والے حفاظتی ٹیکوں کی وجہ سے قدرے معذوری کا بھی شکار ہے اور اٹک اٹک کر بولتا ہے

رائشل کے مطابق سی آئی اے بھی اُسے آسٹریا کے ایک خفیہ مقام پر سال میں دس سے لے کر بیس ہزار یورو ہی دیتی تھی لیکن اس سارے سلسلے میں پائی جانے والی سنسنی اُس کے لیے زیادہ اہم تھی۔ رائشل نے جاسوس کے طور پر ’اُووے‘ کا خفیہ نام اپنا رکھا تھا اور پہلی مرتبہ اُس نے دستاویزات ڈاک کے ذریعے ’ایلیکس‘ نامی ایک امریکی ایجنٹ کو بھیجی تھیں۔ بعد ازاں وہ آسانی سے یہ معلومات ای میل یا پھر دستی طور پر فراہم کرتا رہا۔

2014ء میں اُس نے کوئی نیا تجربہ حاصل کرنے کے لیے اپنی خدمات میونخ میں روسی قونصل خانے کو فراہم کیں لیکن اُس کی روسیوں کو بھیجی جانے والی ای میل پکڑی گئی اور اُسی سال دو جولائی کو اُسے گرفتار کر لیا گیا۔