1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پُر امن ملکوں کی فہرست میں نیوزی لینڈ نمبر وَن

نیوزی لینڈ دُنیا کا سب سے پُرامن ملک ہے جبکہ پُر امن ممالک کی تازہ فہرست میں پاکستان، سری لنکا اور بھارت جیسے ملک بہت ہی پیچھے ہیں۔ ’گلوبل پیس انڈیکس‘ کے مطابق عالمگیر اقتصادی بحران نے دنیا کا امن خطرے میں ڈال دیا ہے۔

default

نیوزی لینڈ کو دنیا کا سب سے پُرامن ملک قرار دیا گیا ہے

’گلوبل پیس انڈیکس‘ 2010ء یا عالمی امن اشاریہ انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس نے مرتب کیا ہے۔ اس اشاریے کے مطابق عالمی مالیاتی بحران سے دنیا بھر میں جرائم اور بدامنی کا بازار گرم ہوگیا ہے۔

BdT Neuseeland, Delphin findet neues Zuhause

گلوبل پیس انڈیکس تیار کرتے وقت درجنوں عوامل کا مشاہدہ کر کے ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ ان میں ملکوں کے دفاعی بجٹوں پر اخراجات، ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات، انسانی حقوق کا احترام اور جرائم کی شرح جیسے عوامل شامل ہیں۔ پیس انڈیکس کے مطابق دنیا بھر میں پُرتشّدد مظاہروں، جرائم کی شرح اور انسان کُش واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

گلوبل پیس انڈیکس کے ساتھ وابستہ ایک آسٹریلوی مہم کار مسٹر سٹیو نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ بدامنی پر پوری طرح سے قابو پانا تقریباً ناممکن ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ ضروری اقدامات کر کے امن کی صورتحال میں بہتری لائی جا ئے۔

امن انڈیکس 2010ء کے محتاط اندازے کے مطابق تشدد اور بدامنی سے عالمی معیشت کو سالانہ سات ٹرلین ڈالر کی خطیر رقم کا نقصان ہوتا ہے۔ موجودہ تشدد میں پچیس فیصد کمی کے نتیجے میں سالانہ کی بنیادوں پر تقریباً ایک اعشاریہ سات ٹرلین ڈالر بچائے جا سکتے ہیں۔ یہ رقم یورپی ملک یونان کے قرضے پورے کرنے اور ضرر رساں کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی کے یورپی اہداف کی تکمیل کے لئے کافی ثابت ہوگی۔

Neuseeland Landschaft

)

عالمی امن اشاریے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دُنیا کے بیشتر خطّوں میں جنگوں کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ مسٹر سٹیو اسے ایک خوش آئند بات قرار دیتے ہیں:’’دنیا کے بہت سے ملکوں اور خطّوں میں جنگ کا رسک کم ہو رہا ہے۔ یہ بہت ہی اہم ہے۔‘‘

گلوبل پیس انڈیکس کے مطابق یورو زون میں شامل پرتگال، یونان، اٹلی، سپین اور آئرلینڈ جیسی کمزور معیشتوں میں بدامنی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے خطّوں میں سن 2007ء کے بعد سے پُر تشّدد واقعات میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ افریقی براعظم میں کئی ملکوں نے اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات بہتر کئے ہیں، جس کا مثبت اثر اس خطّے کی امن کی صورتحال پر پڑا ہے۔

عالمی امن اشاریے کے مطابق عراق، صومالیہ، سوڈان اور افغانستان اب بھی دنیا کے خطرناک اور بحران زدہ ممالک ہیں جبکہ نیوزی لینڈ کو دنیا کا سب سے پُرامن ملک قرار دیا گیا۔ نیوزی لینڈ کے بعد دوسرے نمبر پر آئس لینڈ جبکہ تیسری پوزیشن پر جاپان کو رکھا گیا ہے۔

سن 2007ء کے بعد سے جنوبی ایشیائی ملکوں، سری لنکا، پاکستان اور بھارت کی کارکردگی مسلسل غیر متاثر کن رہی ہے۔ کشمیر تنازعے کے باعث بھارت اور پاکستان کے درمیان تناوٴ برقرار ہے جبکہ پاکستان میں گزشتہ کچھ برسوں سے جاری دہشت گردانہ کارروائیوں سے وہاں کا امن شدید طور پر متاثر ہوا ہے۔

گلوبل پیس انڈیکس کے مطابق عراق اور افغانستان میں وسیع بنیادوں پر فوجی مداخلت کے باعث امریکہ کے دفاعی اخراجات پوری دُنیا میں اِس مَد میں ہونے والے اخراجات کا چون فیصد بنتے ہیں۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی/خبر رساں ادارے

ادارت: امجَد علی