1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

'پوکے من گو‘ ہندو مذہب کی بے حرمتی کا باعث؟

ایک بھارتی عدالت میں دعوی دائر کیا گیا ہے کہ اسمارٹ فون کی آن لائن گیم ’پوکے مون گو‘ ہندو مذہب کی بے حرمتی کی مرتکب ہو رہی ہے کیونکہ اس گیم میں سبزی خور مذہبی افراد کو بطور انعام فرضی انڈے پیش کیے جاتے ہیں۔

Thailand Pokemon Go Spieler in der Bahn

مذہبی مقامات کے منتظمین کی جانب سے بھی یہ اعتراض سامنے آیا ہے کہ مقدس مقامات پر پوکے من کھیلا جانا ان کی بے حرمتی کے مترادف ہے

مقدمے کی پیروی کرنے والے وکیل نیچیکیت دیو کا کہنا تھا کہ اس گیم نے ہندو اور جین مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے جو مذہبی پابندی کے باعث گوشت یا جانوروں سے حاصل شدہ دیگر اشیاء کا اپنی خوراک میں استعمال نہیں کرتے۔ حتٰی کہ لوگ مذہبی مقامات پر بھی یہ کھیل، کھیل رہے ہوتے ہیں جس میں جیتنے پر انہیں فرضی انڈے بطور انعام ملتے ہیں۔

مغربی بھارتی ریاست گجرات میں اس مقدمے کی مختصر سماعت کے بعد دیو نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا،’’ وہ لوگ جو گیم جیت جاتے ہیں انہیں انڈے ملتے ہیں۔ مندروں میں لوگوں کو انڈوں کی پیشکش کرنا، چاہے وہ فرضی دنیا کے ہی انڈے کیوں نہ ہوں، انتہائی قابل اعتراض اور کفر کے مترادف ہے۔

Gamescom Kölnmesse Poke Mania

بعض ممالک کی جانب سے اس کھیل پر پابندی لگائی جا رہی ہے

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بہت سے ہندو سبزی خور ہیں۔ جبکہ جین عقیدے کے افراد عموماﹰ بہت سختی کے ساتھ اپنی خوراک میں صرف سبزی ہی کا استعمال کرتے ہیں۔ دیو جو ’الے دیو ‘ نامی ایک شخص کی وکالت کر رہے ہیں، کا کہنا تھا کہ عدالت اب گجراتی اور بھارتی حکومتوں کے ساتھ ساتھ سن فرانسیسکو میں پوکو من بنانے والے ادارے سے بھی ان دعوؤں پر جواب طلب کرے گی۔ عالمی سطح پر پوکو من کھیلنے کے جنون میں اضافے کے ساتھ ہی اس پر اعتراضات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مذہبی مقامات کے منتظمین کی جانب سے بھی یہ اعتراض سامنے آیا ہے کہ مقدس مقامات پر پوکے من کھیلا جانا ان کی بے حرمتی کے مترادف ہے جبکہ بعض ممالک کی جانب سے اس پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔ حال ہی میں پوکے من کے لینڈ مارک کے طور پر استعمال ہوئی برلن ہالو کاسٹ اور ہیرو شیما کی یادگاروں کی علامات کو حذف کرتے ہوئے گیم کو اپ ڈیٹ کیا ہے۔