1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پوپ کی جانب سے صومالی متاثرین کے لیے امداد کی اپیل

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قرن افریقہ کے مصیت زدہ لوگوں سے لاتعلق نہ رہیں اور ان تک خوراک و دیگر امداد کی فراہمی ممکن بنائیں۔

default

اقوام متحدہ کے مطابق افریقی ریاست صومالیہ میں قریباً چالیس لاکھ انسان بھوکے ہیں جبکہ ایسے خدشات بھی ہیں کہ خشک سالی کا یہ بحران اب خطے کے دیگر علاقوں تک اپنا دامن پھیلا سکتا ہے۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق ڈیجی بوٹی، ایتھوپیا، کینیا اور یوگینڈا میں اس کے اثرات نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔

پوپ بینیڈکٹ نے اطالوی شہر روم کے قریب اپنی رہائش گاہ پر سینکڑوں افراد کے مجمع سے خطاب میں کہا، ’’ ہمیں بھوک اور پیاس کے مارے افراد کی مصیبت سے لاتعلق نہیں رہنا چاہیے۔ قرن افریقہ میں خشک سالی، جنگ اور مستحکم اداروں کی عدم موجودگی کے سبب ہمارے بہت سے بہن بھائی مصیبت جھیل رہے ہیں۔‘‘

صومالیہ میں القاعدہ کے حامی الشباب جنگجوؤں اور حکومتی فورسز کے مابین جاری مسلح کشمکش نے بھی صورتحال کو گھمبیر بنا رکھا ہے۔ شدت پسند الشباب نیٹ ورک کا صومالیہ کے جنوبی علاقوں پر کنڑول ہے، جہاں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ الشباب کے ایک ترجمان کا دعویٰ ہے کہ مقامی مسلم آبادی اس بحران سے نمٹنے کے لیے سرگرم ہے اور مخالف قؤتیں لوگوں کے عقائد بدلنے کے لیے انہیں ایتھوپیا اور کینیا جیسے مسیحی اکثریتی آبادی والے ممالک کی جانب بلا رہی ہیں۔

Somalia Hungerkrise Lebensmittel Not Juli 2011

صومالیہ میں لاکھوں افراد بھوکے پیاسے امداد کے منتظر ہیں

پوپ بینیڈکٹ نے اپنے حالیہ خطاب میں افریقہ کے متاثرین کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اپنے پیروکاروں پر زور دیا کہ وہ مستحقین کی امداد کے لیے اپنے ہاتھ اور دل کھول دیں۔

دوسری طرف افریقی ممالک کی تنظیم افریقی یونین نے نو اگست کو قحط زدہ علاقے کی امداد کے لیے بین الاقوامی رضا کار اداروں کی ایک میٹنگ منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ تنظیم نے اپنے طور پر صومالیہ کے قحط زدہ علاقوں کی امداد کے لیے پانچ لاکھ ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ متاثرین تک خوراک فراہم کرنے کے لیے کم از کم ڈھائی ارب ڈالر درکار ہیں۔ متاثرین کی تعداد کا اندازہ ایک کروڑ سے بھی زائد لگایا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کو جھڑپوں کے باعث طیاروں سے خوراک اور دیگر امدادی سامان دارالحکومت موغادیشو میں گرانا پڑا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: شامل شمس

DW.COM