1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پوپ فرانسِس کی جامعہ الازہر کے مفتی اعظم سے ملاقات

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسِس نے پیر کے روز مصر کی اہم ترین مذہبی شخصیت مفتی اعظم جامعہ الازہر احمد الطیب سے ملاقات کی۔

پانچ برس قبل سنی مسلمانوں کے اہم ترین مذہبی ادارے جامعہ الازہر اور کیتھولک مسیحیوں کے اہم ترین مرکز ویٹی کن کے درمیان مذاکرات منجمد ہو گئے تھے۔

اس ایک ہزار برس قدیم مسجد اور جامعہ نے ویٹی کن کے ساتھ اپنے تمام تر تعلقات اس وقت ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، جب پوپ فرانسِس کے پیش رو پوپ بینیڈکٹ سولہ کی جانب سے شمالی مصری شہر اسکندریہ میں ایک چرچ کے باہر ہونے والے بم دھماکے میں 23 افراد کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی تھی۔ سابق پوپ نے اسے ’مسیحیوں کو ہدف بنانے کی ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت کیا گیا حملہ‘ قرار دیا تھا۔

جامعہ الازہر کا کہنا تھا کہ ویٹی کن کی جانب سے مسلسل توہین آمیز بیانات کی بنیاد پر اس کے ساتھ تمام تر بات چیت ختم کی گئی تھی۔

Vatikan Papst Franziskus empfängt Großimam aus Kairo

پوپ فرانسس اور احمد الطیب کے درمیان ہونے والی ملاقات


سن 2013ء میں پاپائے روم کا منصب سنبھالنے والے پوپ فرانسِس بین الامذہبی تعلقات پر زور دیتے آئے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں مسکراہٹوں کا یہ تبادلہ اسی عزم کا اظہار تھا۔

پوپ نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا، ’’اس سے پیغام یہ لیا جائے کہ ہم مل بیٹھے ہیں۔‘‘

ویٹی کن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے تشدد اور دہشت گردی کے موضوع پر بات چیت کی، جب کہ مشرقِ وسطیٰ میں مسیحیوں کی حالت اور ان کے تحفظ کے اقدامات کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔

پوپ فرانسِس نے گزشتہ برس ایک بیان میں کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں مسیحیوں کی ’نسل کشی‘ کا عمل روکا جائے، تاہم ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ اسلام کو تشدد سے جوڑا درست عمل نہیں۔

گزشتہ ہفتے اپنے ایک انٹرویو میں پوپ فرانسِس نے کہا تھا کہ ’مختلف ملکوں کی فتوحات اسلام کی روح کا حصہ ہے‘ تاہم ان نے کہا کہ مسیحیت میں بھی یسوع مسیح نے ’تمام اقوام کو مطیع کرنے کی ہدایات‘ دی ہیں۔

ملتے جلتے مندرجات